دستاویزات کی تصدیق کہاں سے کی جائے گی: سپریم کورٹ کا سوال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے لندن میں فلیٹ کی فروخت اور بنی گالہ میں خریدی گئی اراضی سے متعلق جمع کروائی گئی منی ٹریل پر سوال اُٹھایا ہے کہ اس میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی تصدیق کہاں سے کی جائے گی کیونکہ بہت سے بینک اب بند ہوچکے ہیں۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ عدالت میں ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جس کی وجہ سے اُنھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر ان دستاویزات کی تصدیق کے لیے اُنھیں بیرون ملک بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو ہونے والی سماعت میں درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ جب تک ان دستاویزات کی تصدیق نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس منی ٹریل کو مستند قرار نہیں دیا جاسکتا۔

’عمران خان کرکٹ کی کمائی کی تفصیل جمع کروائیں‘

’اشتہاری‘ عمران، قادری کی جائیدادوں کی قرقی کا عمل شروع

عمران خان کی طرف سے اثاثے چھپانے اور پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دستاویز اسی اکاؤنٹینٹ سے لی گئی ہوں گی جنہوں نے دوسری دستاویز دی تھیں۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے لندن فلیٹ کی خریداری کے بارے میں تفصیلات جمع کرواتے ہوئے کہا کہ لندن فلیٹ کے لیے ڈاؤن پیمنٹ (ابتدائی ادائیگی) سنہ 1983 میں کی گئی تھی جب 16 دسمبر 1983 کو 11 ہزار، 750 پاونڈ جمع کرائے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میاں بیوی کے درمیان کم یا زیادہ ادائیگی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا: نعیم بخاری

نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان 1971 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے تھے اور اس کے علاوہ وہ 1971 سے 1976 تک کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلتے رہے۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان 1977 سے 1979 تک کیری پیکر سیریز کھیلے اور اس سیریز میں آصف اقبال اور ظہیر عباس سمیت دیگر کھلاڑی بھی کھیلتے تھے۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آسٹریلیا میں بھی کرکٹ کھیلنے سے 75 ہزار ڈالر ملے تھے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ دوسرے فریق نے نہیں اٹھایا تھا بلکہ عدالت نے دستاویزات اپنے اطمینان کے لیے مانگی تھیں۔

بنی گالہ منی ٹریل: ’جمائما کو 15 برس پرانی بینک سٹیٹمنٹس مل گئیں‘

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کو 1988 میں 1 لاکھ، 90 ہزار پاؤنڈ ملے اور یہ رقم عمران خان کو مختلف مراحل میں منتقل کی گئی تھی۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بینیفِٹ ایئر (امدادی سال) کی رقم 1988 میں لندن کی فلیٹ کی خریداری کے بعد ملی تھی جبکہ فلیٹ سنہ 1983 میں خریدا گیا تھا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ رائل ٹرسٹ بینک سے 13.75 فیصد پر قرض لیا گیا تھا اور اس طرح سود کی رقم شامل کر کے فلیٹ کی رقم 1 لاکھ، 61 ہزار پاونڈ ہوگئی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا عمران خان کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم تھی؟ ’دلچسپی یہ ہے کہ کتنی رقم آئی اور خریداری کے لیے ادا کیسے ہوئی‘۔

اس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے یہ مقدمہ نہیں ہے کہ ان کے مؤکل کے پاس لندن کے فلیٹ کے لیے رقم تھی یا نہیں، بلکہ عدالت کے سامنے مقدمہ نیازی سروسز چھپانے کا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2002 میں ہونے والے انتخابات میں لندن فلیٹ کا ذکر کیا گیا تھا کیونکہ ایسا کرنا ضروری تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ فلیٹ سنہ 2003 میں چھ لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ میں فروخت کر دیا گیا تھا۔

Image caption جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت 26 جولائی سے ہوگی۔

چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ بنی گالہ کی اراضی کے معاملے میں کہا گیا ہے کہ ایک لاکھ ڈالر ٹریس نہیں ہو رہے جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان سے ملنے والے دستاویزات کے بعد منی ٹریل مکمل ہوگئی ہے۔

سماعت کے دوران عمران خان کے دوست راشد خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے اور اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ جمائما خان نے مجموعی طور پر 4 لاکھ، 8 ہزار ڈالر بھجوائے تھے۔

اس پر جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ پہلے آپ کا جواب یہ تھا کہ یہ رقم جمائما خان سے نہیں آئی تھی اور اب دوسرا موقف اختیار کیا جارہا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا جمائمہ خان نے یہ کبھی کہا کہ راشد خان سے ان کے پیسوں سے متعلق معاملہ طے ہوا تھا جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ دونوں کے درمیان معاملہ طے ہونے کے دستاویزی شواہد موجود نہیں ہیں۔

نعیم بخاری نے کہا کہ بنی گالہ کی اراضی جمائمہ خان کے رہنے کے لیے ہی خریدی گئی تھی۔عدالت کے سوال پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان اور جمائما خان کے درمیان جو معاملہ تھا وہ میاں بیوی کے آپس کا تھا اور میاں بیوی کے درمیان کم یا زیادہ ادائیگی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

عمران خان کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت 26 جولائی سے ہوگی۔

اسی بارے میں