فوج سے ساز باز کر کے اقتدار کے حصول کی خواہش نہیں: عمران خان

  • آصف فاروقی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد
عمران خان
،تصویر کا کیپشن

عمران خان نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے روایتی سیاست کی مخالفت کرتے رہے ہیں، روایتی سیاستدانوں کی نہیں

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ان پر فوج کے ساتھ ساز باز کر کے اقتدار حاصل کرنے کے الزامات غلط ہیں۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ 'میں نے نہ پہلے ایسا کیا ہے اور نہ آئندہ کبھی فوج کے ساتھ ساز باز کر کے اقتدار کے حصول کی خواہش ہے۔'

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسے موقع کئی بار آئے جب وہ ملک میں انتشار کا باعث بن سکتے تھے لیکن 'صرف اسی خدشے کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا کہ کہیں فوج نہ آ جائے۔'

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ دلچسپی انھی کو ہے۔

'جمہوریت کا مجھ سے زیادہ بڑا سٹیک ہولڈر پاکستان میں اور کون ہے؟ نواز شریف جنرل جیلانی کے ذریعے سیاست میں آئے اور ذوالفقار علی بھٹو تو چھوٹے سے تھے جب انھیں ایوب خان اوپر لائے۔'

عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے 21 سال جدو جہد کی ہے جس کے بعد وہ اس مقام پر پہنچے ہیں۔ 'میں نے 21 سال جدوجہد کیا اس لیے کی ہے کہ فوج کو اقتدار میں لے کر آؤں؟'

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے پاس جتنی بڑی 'سٹریٹ پاور' ہے اس کے ذریعے اگر وہ چاہیں تو کسی بھی وقت ملک میں انتشار پھیلا سکتے ہیں مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

'گذشتہ سال اسلام آباد لاک ڈاؤن کے موقع پر اگر میں پارٹی کی مخالفت کے باوجود پشاور سے آنے والی ریلی کو نہ روکتا تو مجھے پتہ تھا کہ انتشار ہو گا اور گیم ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی اور فوج مداخلت کرے گی۔ اس لیے میں نے انہیں واپس بھیجا اور خود سپریم کورٹ چلا گیا۔'

،تصویر کا کیپشن

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک ایک بھی ایسے شخص کو پارٹی میں شامل نہیں کیا جس کے خلاف نیب میں بد عنوانی کا مقدمہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جو آدمی ملک میں آزاد انتخابات کے لیے جدوجہد کرتا ہو وہ کیسے چاہے گا کہ فوج اقتدار میں آ جائے۔

پارٹی میں نئے شامل ہونے والے سینیئر سیاستدانوں اور ان پر اعتراضات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابی سیاست میں سیاسی خاندانوں کو ساتھ ملانا ضروری ہے۔

'ایک ہزار حلقوں میں انتخاب لڑنا ہے اور ان سب حلقوں کے لیے نئے لوگ لانا ممکن نہیں ہے۔'

عمران خان نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے روایتی سیاست کی مخالفت کرتے رہے ہیں، روایتی سیاستدانوں کی نہیں۔

'اگر آپ نے صرف نئے لوگوں کو ہی الیکشن لڑانا ہے تو ایسا پاکستان میں تو نہیں چاند پر ہی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ صاف ستھرے لوگوں کو ٹکٹ دیں جو سیاسی خاندانوں سے ہیں اور انتخاب جیت سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔'

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک ایک بھی ایسے شخص کو پارٹی میں شامل نہیں کیا جس کے خلاف نیب میں بد عنوانی کا مقدمہ ہو۔

(عمران خان کا یہ تفصیلی انٹرویو آج ٹی وی پر شام سات بجے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں دیکھیے)