جناح کے گھر پر گائے کا پرچم

  • اسد علی
  • بی بی سی اردو، لندن
،تصویر کا کیپشن

جناح کے گھر پر گائے کا پرچم

جناح کے گھر کی قیمت تین لاکھ روپے

مسٹر جناح کا دلی میں گھر جسے سیٹھ رام کرشن ڈالمیا نے تین لاکھ روپے میں خریدا ہے اب گائے کو ذبح کرنے کی مخالفت کرنے والی ایک تنظیم کا صدر دفتر ہو گا اور عمارت پر گائے کا پرچم لہرائے گا۔

سیٹھ ڈالمیا نے جمعے کو نئی دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 10 اگست کو گائے کے دن کے طور پر منایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ مسٹر جناح کا گھر تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور یہ اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جائے گی جب ایک ایسی تحریک کامیابی حاصل کرے گی جو سیاسی ہونے کی بجائے اقتصادی، سماجی اور مذہبی نوعیت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ خوشحالی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک گائے کو ذبح کرنے پر مکمل پابندی نہیں لگ جاتی اور دودھ اور دودھ سے بننے والی اشیا عوام کو سستے داموں پر نہیں ملنا شروع ہوتیں۔

'انھوں نے کہا کہ ہماری تحریک کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور مدراس، اتر پردیش، بہار اور دیگر صوبوں میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی کےحق میں قانون سازی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔'

،تصویر کا کیپشن

بارشوں کی کمی نے صورتحال خراب کر دی

خوراک کا مسئلہ، حکومت ہِند کا پہلا درد سر

(نئی دلی، جمعہ) محکمہ خوراک کے ایک افسر نے ہندوستان میں خوراک کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت ہند کے لیے پہلے درد سر میں سے ایک ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقے قحط کے قریب ہیں اور اس صورتحال کے بدلنے کا امکان ففٹی ففٹی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگست اور ستمبر کے مہینے انتہائی اہم ہیں۔

پنجاب، راجپوتانا، گجرات اور کاٹھیاوار میں بارشوں کی کمی نے صورتحال خراب کی ہے لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے کتنا نقصان ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یکم ستمبر کو مدراس میں صرف 15 دن کی سپلائی باقی ہو گی۔

ترنکور اور کوچن کی ریاستوں میں صرف پانچ دن کا راشن ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ دکن کی سب سے بڑی ریاست حیدرآباد میں یکم ستمبر کو صرف دو دن کی سپلائی ہو گی۔

،تصویر کا کیپشن

برطانیہ پر دوسری جنگ عظیم کا بوجھ

ایسٹرن ٹائمز

انڈیا، پاکستان ہمارے قرضے معاف کریں: برطانیہ

(نئی دلی، 8 اگست) برطانیہ میں معتبر حلقوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے انڈیا اور پاکستان سے جنگی قرضے معاف کرنے کی درخواست کی ہے یا کرنے جا رہا ہے تاکہ وہ ان کے ساتھ بالکل نئی بنیادوں پر اقتصادی تعلقات کا آغاز کر سکے۔

باور کروایا گیا ہے کہ برطانیہ انتہائی شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اور جنگ عظیم کے دوران لیے گئے قرضے واپس نہیں کر سکے گا۔ اگر انڈیا اور پاکستان نے اس کے قرضے معاف نہ کیے تو برطانیہ اور نئے ممالک کے درمیان تعلقات تعطل کا شکار ہو جائیں گے جس کا سب کو نقصان ہو گا۔

'آپ کو دکھائی نہیں دے رہا' ایک ترجمان نے ایک خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے ملک میں کپڑے اور پیسے کی کمی کی وجہ سے سکرٹ کا سائز چھوٹا ہو رہا ہے۔'

نوٹ: یہ مضمون سب سے پہلے نو اگست، 2017 کو شائع ہوا تھا۔