نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پارٹی نیا صدر منتخب کرے: الیکشن کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاناما لیکس کے مقدمے کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تھا

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کو پارٹی کا نیا صدر منتخب کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق یہ نوٹس پاناما لیکس کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے روشنی میں جاری کیا گیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

منگل کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ سنہ 2002 کے تحت کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

وزیراعظم نااہل، شریف خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

نواز شریف کے زوال کے اسباب

اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارٹی آئین کے تحت بھی صدارت کا عہدہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک خالی نہیں رہ سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے حکمران جماعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ نیا صدر منتخب کر کے الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق حکمران جماعت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف مسلم لیگ نواز کی صدارت کے لیے سب سے موزوں امیدوار ہیں جس پر حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت متفق بھی ہے۔

دوسری جانب محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کا نام بھی بطور پارٹی صدر لیا جارہا ہے تاہم اس کا حتمی فیصلہ پارٹی کی سینیئر قیادت کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نوے کی دہائی میں نواز شریف کی حکومت برطرف کیے جانے کے بعد بیگم کلثوم نواز نے سیاست میں اہم کردار ادا کیا تھا

کلثوم نواز کا نام قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے ضمنی انتِخاب میں حکمران جماعت کی اُمیدوار کے طور پر بھی سامنے آرہا ہے۔

دوسری طرف حکمران جماعت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل تیار کر رہی ہے اور آئندہ ہفتے میں نطرثانی کی اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

پاناما کیس شریف خاندان کے لیے کٹھن مرحلہ

٭’ذاتی کاروبار پر نہ سوال کیا جا سکتا ہے، نہ جواب دینا ضروری ہے‘

قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے ارٹیکل 184 کی ذیلی شق تین کے تحت کیے گئے فیصلے میں نظر ثانی کا اختیار بڑا محدود ہوتا ہے اور اکثر مقدمات میں نطرثانی کی اپیل کی سماعت بھی سپریم کورٹ کا وہی بینچ کرتا ہے جس نے فیصلہ دیا ہوتا ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا جی ٹی روڈ کے ذریعے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور جانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ریلی کا بڑا حصہ پنجاب میں ہوگا جو کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائراہ اختیار میں نہیں ہے۔

اسی بارے میں