خیبر پختونخوا میں ایک اور خواجہ سرا قتل

پولیس فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک خواجہ سرا کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب نوشہرہ کلاں کے علاقے خیشگی میں پیش آیا۔

نوشہرہ کلاں پولیس سٹیشن میں نوجوان خواجہ سرا سفید عرف عدنان کے والد ہارون رشید کی طرف سے درج کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کا بیٹا گذشتہ دو سالوں سے نوشہرہ کے دو باشندوں عامر اور عابد کے ہاں مقیم تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق گذشتہ رات ان کو اطلاع دی گئی کہ ان کے بیٹے کی لاش ہسپتال لائی گئی ہے جہاں پہنچ کر معلوم ہوا کے انھیں تشدد کرکے مارا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پولیس نے خواجہ سرا کے والد کی نشاندہی پر دو افراد عامر اور عابد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ادھر پشاور میں خواجہ سرا تنظیم کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ 24 سالہ خواجہ سرا سفید عرف عدنان تقریباً تین سالوں سے مبینہ ملزمان عامر اور عابد کے ہمراہ مقیم تھے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز ان کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس پر خواجہ سرا کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول پر پہلے تشدد کیا گیا اور بعد میں ان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

خواجہ سرا تنظیم کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو مقتول کی چند تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جس میں ان کے چہرے پر وحشیانہ تشدد کے نشانات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ چند مہینوں سے خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

تقریناً ایک ہفتہ قبل مردان میں بھی ایک خواجہ سرا کو فائرنگ کر کے مارا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقتول کو ان ہی کے خاندان کے افراد نے ہلاک کیا۔

خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم بلیو وین کے سربراہ قمر نسیم کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں رواں برس اب تک خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد کے 120 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلے میں کم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ خواجہ سراؤں کے خلاف معاشرتی دباؤ زیادہ ہے اور ان کا پوچھنے والا بھی کوئی نہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف وارداتیں کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں