پشاور میں ڈینگی کے خاتمے کے لیے گھر گھر مہم

ڈینگی وائرس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں پشاور ڈینگی وائرس سے پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد صوبائی حکومت نے ڈینگی کے خاتمے کےلیے ہنگامی بنیادوں پر گھرگھر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

پشاور میں ڈینگی کے خلاف مہم کے فوکل پرسن اور ڈپٹی کمشنر پشاور ثاقب اسلم رضا نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ شہر میں بڑے پیمانے پر ڈینگی کے خلاف مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پشاور میں دو علاقے تہکال اور پشتخرہ سب سے زیادہ ڈینگی کے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جہاں اب دن میں پانچ پانچ مرتبہ سپرے کیا جا رہا ہے تاکہ اس وائرس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاسکے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق تمام ہسپتالوں میں اس بیماری سے نمٹنے کےلیے ہنگاہی بنیادوں پر تشخیصی ڈیسک اور علاج کی سہولیات مہیا کردی گئی ہیں جہاں متاثرہ مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جارہا ہے۔اس کے علاوہ شہر کے نجی ہپستالوں اور طبی مراکز میں بھی تشخیصی مراکز قائم کردیے گئے ہیں۔

ثاقب اسلم رضا نے مزید کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پشاور میں پانچ افراد ڈینگی وائرس سے ہلاک جبکہ 800 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے جن میں 140افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

تاہم مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد آٹھ بتائی ہے جن میں بیشتر افراد کا تعلق پشاور کے علاقے تہکال سے رہا ہے۔

ادھر صوبہ پنجاب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی سربراہی میں ڈینگی کے مرض پر قابو پانے کےلیے موبائل گاڑیوں اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیمیں پشاور پہنچ گئی ہیں جہاں انھوں نے کام کا آغاز کردیا ہے۔

پشاور کے دورے پر آئے ہوئے پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں ڈینگی ایک وبا کی شکل میں پھیلتا جارہا ہے لیکن ٹیم ورک سے اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا حکم ہے کہ یہ وقت کسی سیاست یا پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ مسئلہ خیبر پختونخوا کے عوام کا ہے لہذا انکی خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ پنجاب ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثر رہا ہے جسکی وجہ سے انہیں اس مرض پر قابو کرنے کا زیادہ تجربہ ہے لہذا ان کے ماہرین خیبر پختونخوا کے ڈاکٹروں سے مل کر بہتر طریقے سے اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو ڈینگی کیبنٹ اور ڈینگی ایمرجنسی رسپانس کمیٹیاں صوبائی وزیر صحت یا وزیراعلیٰ کی سربراہی میں فوری طورپر قائم کرنی چاہیے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر ان کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ اس موذی مرض پر قابو پایا جاسکے۔

ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گذشتہ چند دنوں سے صوبائی حکومت پر ڈینگی کے وائرس پر قابو پانے میں ناکامی پر کڑی تنقید کی جارہی ہے اور بعض صارفین کی طرف سے تحریک انصاف حکومت کی محکمہ صحت کے شعبے میں کی گئی اصلاحات پر بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

پشاور کے سینئیر صحافی عارف یوسفزئی نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب کے وزیرصحت اور ان کی ٹیمیں ڈینگی کا مقابلہ کرنے کےلیے پشاور پہنچ گئے ہیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت اور ان کے وزرا تاحال غائب ہیں۔

ایک اور صارف رفاقت اللہ نے کہا کہ ‏ڈینگی سے خیبر پختونخوا کے عوام اذیت کے شکار ہیں لیکن کپتان پکنک منارہے ہیں۔

کئی صارفین نے صوبائی وزیرصحت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈینگی کا مرض گذشتہ ایک ماہ سے بڑھتا جارہا ہے لیکن صوبائی وزیر نے اس کے روک تھام کے ضمن میں کل یعنی پیر کے روز اجلاس طلب کیا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت محکمہ صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کے دعوے شروع سے کرتی آئی ہے تاہم ڈینگی کے کیسوں میں اچانک اضافے نے ان تمام اصلاحات پر سوالیہ نشان بنادیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں