عالمی برادری پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے: امریکی تنبیہ پر چین کا جواب

چین، امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملے پر امریکہ کی تنبیہ کے جواب میں چین نے پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

یومیہ بریفنگ کے دوران چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں

٭ امریکہ پالیسی دہشت گردی سے نمٹنے کی مشترکہ جدوجہد ہے: اشرف غنی

٭ 'حقانی نیٹ ورک نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ پراکسی'

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ 'اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔'

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔

صدر ٹرمپ نے پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے بارے میں اپنی انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں اور مستقبل میں بھی وہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ 'ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب وہ انھی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں۔'

امریکہ کی جانب سے اس تنبیہ کے ردعمل پر چین نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یاد رہے کہ چین اقتصادی راہداری معاہدے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور چین کے صوبے سنکیانگ کو راہداری کے ذریعے بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب منگل کو پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف سے ملاقات میں امریکہ کی جنوبی ایشا کے بارے میں حالیہ پالیسی پر بات چیت کی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر نے وزیر خارجہ سے ملاقات میں بتایا کہ امریکہ کے سیکریٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن آئندہ چند روز میں پاکستانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے، تاکہ نئی امریکہ پالیسی کے تناظر میں دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہو سکے۔

بیان کے مطابق 'وزیر خارجہ نے امریکی سفیر سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں اور مستقبل میں بھی وہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ تعاون کیا ہے۔

اسی بارے میں