’امریکہ کی پریشانی دہشت گردی نہیں، سی پیک ہے‘

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو تنبیہ پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کی کہ اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

٭ ’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘

امریکی صدر کے مطابق 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔

ان کے بیان پر پاکستان کے سیاسی کارکنوں، رہنماؤں اور دیگر افراد نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے اس کے علاوہ امید کی بھی کیا جا سکتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’جیسے انڈیا کشمیر میں اپنی ناکام پالیسی کے باعث پیدا ہونے والی شورش کا ذمہ دار پاکستان کو گردانتا ہے ویسے ہی امریکہ بھی افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری ناقص اور ناکام پالیسی کے لیے پاکستان کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔‘

صدر ٹرمپ کے خطاب اور پاکستان کے بارے میں سخت الفاظ کے بعد اس وقت ہیش ٹیگ #trump ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ’معذرت کے ساتھ اوروں کو افغانستان میں ’ڈو مور‘ کی ضرورت ہے، لیکن پاکستان کو نہیں۔ ہم تب تو ٹھیک تھے جب تک سپلائی لائنوں کی ضرورت تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

پی ٹی آئی سے ہی تعلق رکھنے والے اسد عمر نے ٹویٹ کی اور صدر ٹرمپ کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا: ’جہاں تک پابندیوں کا سوال ہے تو کیا ٹرمپ کو کسی نے بتایا ہے کہ امریکی امداد اتنی کم ہے کے وہ تقریباً بے معنی ہو جاتی ہے۔‘

سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رکن پارلیمان سید رضا علی عابدی نے اس موقع پر ٹویٹ کی: ’ٹرمپ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا کہہ رہے ہیں اور افغانستان میں انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ امریکہ کی پریشانی دہشت گردی نہیں بلکہ سی پیک ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

صدر ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے بیان پر سینیئر صحافی سید طلعت حسین نے لکھا: ’ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ ناکام افغان پالیسی کی بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا ہمارے اہم مفادات کو نقصان پہنچ چکا ہوگا۔‘

ایک صارف قاسم انیب نے اس حوالے سے لکھا کہ ’ہم نے افغانستان میں امریکہ کی ایما پر دو جنگیں لڑیں اور دونوں ہی مرتبہ بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ہزاروں جانیں دیں۔‘

اسی بارے میں