’ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے حقائق میں جائیں گے تو بطور قوم شرمندگی ہو گی‘

خواجہ آصف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دو افراد کے قتل میں ملوث امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے حقائق میں جائیں گے تو بطور قوم شرمندگی ہو گی۔

نامہ نگارشہزاد ملک کے مطابق جمعہ کو سینیٹ کے اجلاس میں امریکی جاسوس کی رہائی سے متعلق جمعت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ کی طرف سے دیتے گئے توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ جن افراد اور اداروں نے ریمنڈ ڈیوس کو ملک سے باہر لے جانے کے لیے کردار ادا کیا وہ قومی عزت اور غیرت کے منافی ہے۔

٭ ریمنڈ ڈیوس کی آخری پیشی

٭ جب امریکہ اور پاکستان آمنے سامنے آ گئے

٭ فساد کی جڑ کا کچھ انتظام ہونا چاہیے

٭ اگر امریکی کمانڈوز سرینگر سے اڑتے!

واضح رہے کہ پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے لیے کام کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو 27 جنوری سنہ2011 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب لاہور میں دو افراد کو قتل کر کے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

بعدازاں مقتولین کے ورثا کو کچھ دنوں کے بعد دیت کی رقم ادا کرنے کے بعد رات کے اندھیرے میں لاہور کی جیل سے نکال کر امریکہ بھجوا دیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں راجہ ارشاد ایڈووکیٹ پیش ہوئے تھے جو لاپتہ افراد کے مقدمات میں فوج کے خفیہ اداروں کی طرف سے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔

حافظ حمد اللہ نے اپنے توجہ دلاو نوٹس میں کہا کہ ریمنڈ ڈیوس نے رہائی کے بعد جو کتاب لکھی ہے اس میں پاکستان کے فوجی اداروں، عدلیہ، ایگزیکٹیو، صدر اور پارلیمنٹ پر سوالات اُٹھے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات میں شرمندگی کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ جب تک حاکمیت پارلیمنٹ کے پاس نہیں آتی اس وقت تک اس طرح کے واقعات کا سدباب نہیں ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ ہر ادارہ پارلیمنٹ کو جواب دہ ہو اور پارلیمنٹ میں ہونے والے احتساب میں کوئی ڈنڈی نہیں مارے گا۔

خواجہ آصف نے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ'اگر وہ اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیں تو میں آپ کی آواز میں آواز ملاوں گا۔'

اُنھوں نے کہا کہ پارلیمان تحقیقات کرے کہ کس نے امریکی جاسوس کی رہائی میں کیا کردار ادا کیا تو پھر اس معاملے کی افادیت ہوگی ورنہ صرف پوائنٹ سکورنگ کرنے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پارلیمنٹ اس مسئلے کو گہرائی میں جا کر دیکھے کہ کیسے اس معاملے میں قومی وقار اور غیرت کا سمجھوتا کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں کسی کا انفرادی مفاد تو ہو سکتا ہے لیکن کسی ریاستی ادارے کا مفاد اس سے وابسطہ نہیں تھا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے دیت کی رقم بھی حکومت پاکستان نے ادا کی لیکن یہ پیسے کہاں سے دیے گئے اس کی معلومات نہیں ہیں

اسی بارے میں