بینظیر قتل: کیا دوسرا بمبار زندہ ہے؟

اکرام اللہ محسود تصویر کے کاپی رائٹ ISHTIAQ MEHSUD
Image caption اکرام اللہ محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین سے ہے

پیپلز پارٹی کی رہنما اور دو مرتبہ وزیر اعظم بننے والی بینظیر بھٹو کو قتل کرنے والا شخص ایک نوجوان سعید عرف بلال تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے لیاقت باغ میں بینظیر کی گاڑی کے قریب پہلے گولی چلائی اور اس کے فوراً بعد خود کو بم سے اڑا دیا۔

تاہم اس واقعے کی تحقیقات کرنے والوں کو یقین ہے کہ بینظیر کے قتل کے لیے ایک نہیں بلکہ دو خودکش حملہ آور بھیجے گئے تھے۔ اس دوسرے حملہ آور کا نام اکرام اللہ محسود بتایا گیا لیکن وہ زندہ ہے یا ہلاک ہوچکا ہے اس بارے میں خود تمام حکومتی تحقیقاتی ادارے واضح نہیں ہیں۔

بینظیر بھٹو مقدمۂ قتل: پانچ مرکزی ملزمان بری، مشرف اشتہاری، پولیس افسران کو سزا

'بی بی سانوں چھڈ گئی ایہہ'

ماضی کی چند بینظیر تصویریں

پنجاب پولیس اور ایف آئی اے کی تحقیقات میں ایک فرق یہ بھی ہے۔ ایف آئی اے کی تفتیش کے مطابق بینظیر پر حملے کے وقت دو مختلف شدت کے دھماکے ہوئے جبکہ پنجاب پولیس کے خیال میں دھماکہ ایک ہی تھا جو بلال نے کیا تھا۔

ایف آئی اے کے تحقیقات کاروں کے خیال میں اکرام اللہ دوسرا بمبار تھا جس نے لیاقت باغ کے گیٹ کے قریب خود کو اڑایا تھا۔ بینظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق دو دھماکوں کی تصدیق لیبارٹری رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔

چوہدری محمد اظہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کی چھان بین کے مطابق اکرام اللہ محسود ہلاک ہو چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں جو رپوٹس ملی ہیں ان کے مطابق اکرام اللہ ہلاک ہوچکے ہیں۔ 'ان افراد کے اہل خانہ اور مقامی پولیٹکل انتظامیہ کی رپورٹس میرے پاس ہیں جن میں اکرام اللہ کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔' ان کے بقول یہ رپورٹس چالان میں شامل نہیں ہیں لیکن ان کے پاس موجود ہیں۔

لیکن اس کے برعکس پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں میڈیا کو جاری کی گئی انتہائی مطلوب افراد کی ایک فہرست میں اکرام اللہ محسود کا نام بھی موجود ہے۔

حکومتِ پنجاب نے اکرام اللہ محسود کی گرفتاری یا ہلاکت کی صورت میں 20 لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہونے کا مطلب ہے کہ کم از کم حکومتِ پنجاب ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر رہی ہے۔

قبائلی علاقے کے صحافی اشتیاق محسود کی تحقیقات کے مطابق بھی اکرام اللہ محسود زندہ ہیں اور افغانستان میں روپوش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ishtiaq Mehsud
Image caption ایف آئی اے کے تحقیقات کاروں کے خیال میں اکرام اللہ دوسرا بمبار تھا جس نے لیاقت باغ کے گیٹ کے قریب اپنے آپ کو اڑایا تھا

'وہ اس وقت افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان شہریار گروپ کے پاس ہے۔ اس پر گذشتہ دنوں ماہ رمضان میں افغانستان میں قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گیا تھا۔'

ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستانی حکام نے اس کی گرفتاری کے لیے گذشتہ دنوں اس کے خاندان کے کئی لوگوں کو جن میں اکرام اللہ محسود کا دس ماہ کا بچہ اور سسر شامل ہیں حراست میں لیا تھا۔

اشتیاق محسود کے مطابق انھیں بعد میں اس تنبیہ کے ساتھ چھوڑ دیا گیا کہ وہ اکرام کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہیں گے۔

اکرام اللہ مسحود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین سے ہے۔ وہ بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے اور سنہ دو ہزار سات میں قائم ہونے والی تحریک طالبان کے سرگرم رکن بھی تھے۔

وزارت داخلہ نے بینظیر بھٹو کے قتل کے فورا بعد بیت اللہ محسود کی ایک نامعلوم شخص کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو ٹیپ کی جو میڈیا کو جاری کی گئی تھی۔ اس میں بھی وہ شخص بیت اللہ کو بتا رہا ہے کہ کارروائی کرنے والے بلال اور اکرام تھے ۔

وزارت داخلہ کے مطابق بینظیر بھٹو پر حملے کی سازش پر عمل کے لیے پانچ رکنی ٹیم تیار کی گئی تھی اور گرفتار ملزمان کے ابتدائی بیانات کے مطابق ان میں سے دو خودکش حملہ آور تھے۔

مبصرین کو امید ہے کہ دس سال کی تحقیقاتی اور قانونی کوششوں کے بعد اکرام اللہ محسود کے زندہ یا ہلاک ہونے کے بارے میں صورتحال پر بھی حکام توجہ دیں گے اور ریکارڈ درست کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں