امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے پر غور کیا جائے: قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ Aamir quraishi
Image caption پوری قوم آج پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں کی سزا بھگت رہی ہے: خواجہ آصف

پاکستان کی پارلیمان نے ایک متفقہ قرارداد میں امریکی صدر کی حالیہ تقریر اور افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پالیسی گائیڈ لائینز بھی متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ یہ قرارداد قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے پیش کی تھی۔

ہماری نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی صدر کے الزامات اور افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن کے بیانات دھمکی آمیز ہیں اور پاکستان جنرل جان نکلسن کا طالبان شوریٰ کی کوئٹہ اور پشاور میں موجودگی کا دعویٰ مسترد کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 'امریکہ کی طرف سے انڈیا کو افغانستان میں بالادست بنانے سے خطہ عدم استحکام سے دوچار ہوگا۔‘

’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘

ٹرمپ کے نعرے اور افغان حقیقت

’اب ’ڈو مور‘ کسی اور کو کرنا ہے ‘

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے افغانستان اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ سرحد پار سے پاکستان میں ہونے والی کارروائیوں کو روکا جائے جبکہ 'افغان حکومت تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار سمیت پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں پناہ گاہوں کو بند کرے۔‘

اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں کشمیروں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

قرارداد کے مطابق پاکستان ذمہ دار ایٹمی قوت ہے جو مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aamir quraishi
Image caption قومی اسمبلی میں کشمیروں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا

قرارداد میں حکومت پاکستان کو سفارشات پیش کی گئیں کہ حکومت امریکی وفود کے دورہ پاکستان اور پاکستانی حکام کے امریکی دورے کو ملتوی کرنے پر غور کرے۔ سفارشات میں امریکہ کو پاکستان کی فضائی اور زمینی حدود کے استعمال پر پابندی، افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے ٹائم فریم کی تشکیل، امریکی امداد کی عدم موجودگی میں معاشی صورتحال پر قابو، افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ اور دوست ممالک کے ساتھ رابطے قائم کرنے پر غور کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

اس سے پہلے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد سابق صدر پرویز مشرف امریکی جنگ کو پاکستان لے آئے اور پوری قوم آج ان کی غلط پالیسیوں کی سزا بھگت رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'افواجِ پاکستان اور حکومت کے مؤثر اقدامات کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کم ہوئی ہے۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اگست کو پاکستان، افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ 'امریکہ اب اس معاملے پر مزید خاموش نہیں رہے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب تک معیشت مضبوط نہیں ہوتی خارجہ پالیسی بہتر نہیں ہو سکتی: خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ ماضی کی پالیسیوں کو بھی سامنے رکھنا ہوگا، جب تک معیشت مضبوط نہیں ہوتی خارجہ پالیسی بہتر نہیں ہو سکتی۔‘ انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'نواز شریف چار سال تک ملک کے وزیر خارجہ رہے، سوال یہ ہے کہ کارکردگی کیا رہی؟'

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر پاکستان میں دہشت گردوں کو پناہ ملنے کے ثبوت دیں، 'ہم کبھی دہشتگردوں کو پناہ دینے کی پالیسی کی حمایت نہیں کریں گے'۔

مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو 'تضحیک آمیز' قرار دیا اور کہا کہ 'پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کے پاس افغان سرحد پر دہشتگردوں کی کم از کم 10 محفوظ پناہ گاہوں کے ثبوت ہیں'۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن امریکہ سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہم سب کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں لیکن یہ پاکستان کے مفاد میں ہونا چائیے۔‘

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'دہلی کے زریعے کابل میں امن نہیں آ سکتا' جبکہ ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ 'یورپی ممالک کو بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے دہشتگرد ان ممالک میں چھپے ہوئے ہیں۔‘

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ 'امریکہ کے ساتھ بیک ڈور چینل کھولیں‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں