بینظیر بھٹو قتل کیس: ’ایسا لگتا ہے کہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی فتح ہوئی‘

بینظیر بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان پیپلزپارٹی نے بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر سخت حیرانی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'پارٹی کو یقین ہے کہ انصاف نہیں ہوا اور نہ ہی ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔ القاعدہ اور طالبان دہشت گردوں کے خلاف ثبوت دیے گئے تھے لیکن ان کی بریت بہت حیران کن ہے اور متعدد سوالات اٹھاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کی فتح ہوئی ہے‘۔

٭ ’میری ماں کے قتل کے اصل قصوروار آزاد گھوم رہے ہیں‘

٭ بینظیر بھٹو قتل: پانچ ملزمان بری، مشرف اشتہاری، پولیس افسران کو سزا

٭ ’بی بی سانوں چھڈ گئی ایہہ‘

بیان میں پولیس اہلکاروں کو دی جانے والی سزا پر سوال اٹھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس بات کا جواب نہیں ملا کہ کس نے حکم دیا تھا کہ جائے وقوعہ کو دھو دیا جائے اور تمام اہم ثبوتوں کو ضائع کر دیا جائے۔

’پولیس افسروں کی سزا اس وقت تک کمزور رہے گی جب تک کہ انہیں حکم دینے والے لوگوں کے خلاف مقدمہ نہیں چلتا اور سزا نہیں ہوتی۔'

بیان میں اس کیس کے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کی کیس کے اہم مرحلے میں ہلاکت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرنے والے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بیان میں کہا گیا کہ چونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو اس مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا اس لیے پارٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف فوری طور پر اپیل دائر کرے جبکہ پیپلز پارٹی بھی اس مقدمے میں فریق بننے کے لیے عدالتی ذرائع کا استعمال کرے گی اور اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔

اسی بارے میں