آصف زرداری نے بینظیر کے قتل کی تحقیقات نہیں کروائیں: ناہید خان

ناہید خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ستائیس دسمبر کے لیاقت باغ کے جلسے کے حوالے سے ناہید خان نے بتایا کہ بینظیر بھٹو بہت پرخوش تھیں لیکن ان کو وہاں کچھ ایسا دکھائی دیا، جو اور کسی نے نہیں دیکھا۔

27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں لیاقت باغ کے جلسے میں جب بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تو اس وقت ان کی قریبی ساتھی ناہید خان ان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھیں۔

اس دن کے حادثے کو یاد کرتے ہوئے ناہید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث بینظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نکلنے سے متعدد بار منع کیا لیکن انھوں نے کسی کی نہ سنی۔

٭ بینظیر بھٹو قتل: پانچ ملزمان بری، مشرف اشتہاری، پولیس افسران کو سزا

٭ ’ایسا لگتا ہے کہ عسکریت پسندوں کی فتح ہوئی ہے‘

٭ ’میری ماں کے قتل کے اصل قصوروار آزاد گھوم رہے ہیں‘

٭ بینظیر قتل: کیا دوسرا بمبار زندہ ہے؟

’وہ عوامی لیڈر تھیں اور عوام کی لیے ہی جان دے دی۔ وہ لیڈر تھیں ہم ان کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو کئی بار سکیورٹی رسک کے بارے میں بتایا لیکن وہ ہمارے ساتھ جھگڑتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اس سے بہتر ہے کہ میں بھی سیاست چھوڑ دوں اور تم لوگ بھی چھوڑ دو، میں یہ بزدلوں والی سیاست نہیں کر سکتی۔

’وہ کہتی تھیں کہ میرے کارکن کیا سوچیں گے کہ ہماری لیڈر اتنی بزدل ہے کہ ہم باہر کھڑے ہیں صبح سے شام تک اور یہ ہمیں اپنی شکل بھی نہیں دکھاتی۔‘

اس شام کو یاد کرتے ہوئے ناہید خان نے بتایا کہ ’جلسے کے بعد بینظیر بھٹو گاڑی میں آ کر بیٹھیں تو بہت خوش اور پرجوش تھیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی انھوں نے مجھے گال پر چوما تو صفدر صاحب نے کہا کہ جلسے کی کامیابی کا تھوڑا سا کریڈٹ آج مجھے بھی دے دیں۔ اس پر بینظیر صاحبہ نے کہا نہیں صفدر آج کی کامیابی صرف ناہید کے باعث ہے۔ میں نے بھی جواباً بی بی کو گلے لگایا۔

جیالے اتنے پرجوش تھے کہ گاڑی کو گھیر لیا اور نعرے لگانے لگے۔ بی بی نے ڈرائیور کو کہا میگا فون دو، جو انہوں نے صفدر کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ کیوں نے کچھ نعرے لگائیں؟ خود بھی انھوں نے جیے بھٹو کے نعرے لگائے اور نعرے لگاتی ہوئی گاڑی کی چھت سے سر باہر نکال لیا۔‘

بینظیر بھٹو کے قتل سے قبل کیا انھوں نے کوئی غیر معمولی بات کہی یا اشارہ دیا، جب یہ سوال ناہید خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے 23 دسمبر کو گڑھی خدا بخش قبرستان میں پیش آنے والا واقعہ سنایا۔

’پیپلز پارٹی کا لاڑکانہ میں جلسہ تھا تو اس سے قبل بینظیر بھٹو گڑھی خدا بخش میں بھٹو خاندان کے قبرستان میں گئیں۔ وہاں وہ اپنے والد اور بھائیوں کے قبر کی بجائے پہلے خاندان کے باقی تمام لوگوں کی قبر پر گئیں۔ بھٹو خاندان کے افراد کی عموماً زندگی پچاس سال تک ہی ہوتی ہے، ایسا کہا جاتا ہے، ذوالفقار بھٹو اور ان کے بھائی کو ہی دیکھ لیں۔ تو اس بات پر بینظیر صاحبہ نے بےاختیار بولا لیکن ناہید میری عمر تو 54 سال ہے۔ میں بالکل خاموش ہو گئی کہ یہ کیا بات کی ہے انھوں نے۔

پھر قبرستان سے باہر جاتی ہوئی بی بی واپس مڑیں اور اسی مقام پر آ کر رک گئیں جہاں ان کی اب قبر ہے۔ اس جگہ کو دیکھ کر بولیں، ناہید ایک دن ہم نے بھی تو یہیں آنا ہے۔ تب مجھے یہ سب بہت عجیب لگا تھا لیکن آج سمجھ آ رہا ہے کہ بی بی کو ان کے آخری وقت کا احساس ہو گیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ناہید خان کے بقول بے نظیر کے قتل کے باعث آصف زرداری صدر بن سکے۔

ستائیس دسمبر کے لیاقت باغ کے جلسے کے حوالے سے ناہید خان نے بتایا کہ بینظیر بھٹو بہت پرجوش تھیں لیکن ان کو وہاں کچھ ایسا دکھائی دیا، جو اور کسی نے نہیں دیکھا۔

’جب وہ سٹیج پر گئیں تو مسلسل سامنے دیکھ رہی تھیں، میں نے سوچا شاید لوگوں کا ہجوم دیکھ رہی ہیں۔ یکدم مجھے بلا کر کہتی ہیں دیکھو وہ جو دو درخت ہیں ان کے درمیان کچھ کالا سا ہے۔ راولپنڈی میں تو سردیوں میں دھند اتنی ہوتی ہے لیکن غور سے دیکھنے پر میں نے کہا بی بی وہاں کچھ نہیں ہے۔ تو انھوں نے کہا اچھا مخدوم بھی یہی کہہ رہے ہیں، شاید میری نظر کمزور ہو گئی ہے۔ میں نے اس وقت تو نظر انداز کر دیا لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ ان کو کچھ پتا چل گیا تھا۔‘

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بینظیر قتل کیس کی پیروی صحیح سے نہ کیے جانے پر ناہید خان برہم ہوئیں اور کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی اور پارٹی ہوتی تو شاید بی بی کے قتل کیس کے ساتھ اتنا ظلم نہ ہوتا۔ آصف علی زرداری پاکستان کے صدر صرف بینظیر کے انتقال کے باعث بنے، ان کی اپنی کوئی قابلیت نہیں تھی۔ تمام ایجنسیاں ان کے ماتحت کام کر رہے تھیں لیکن انھوں نے تحقیقات کروائی ہی نہیں۔‘

بینظیر قتل کیس سے متعلق جب بھی پیپلز پارٹی پر تنقید ہوئی تو دفاع میں انھوں نے کہا ہے کہ گرفتار ملزمان صرف فرنٹ مین ہیں، اصل قاتل کوئی اور ہے۔ اس حوالے سے ناہید خان کا کہنا تھا کہ اصل قاتل ڈھونڈنا پیپلز پارٹی کا کام ہے۔

’یہ اب پیپلز پارٹی رہی ہی نہیں ہے، یہ اب زرداری لیگ بن گئی ہے، اگر یہ پیپلز پارٹی ہوتی تو سب سے پہلے اپنے قائد کے قتل کی کھوج لگاتے۔ میں، صفدر اور مخدوم عینی شاہد تھے لیکن ہمیں تو کبھی عدالت نے بلا کر نہیں پوچھا۔ بہت سارے سوال ہیں جن کے جواب نہیں ہیں۔ اگر تحقیقات ہوئیں تو نشانات بہت دور تک جائیں گے ۔‘

اسی بارے میں