مہمند ایجنسی میں نماز عید سے قبل دھماکہ، باپ بیٹے سمیت تین ہلاک

مہمند ایجنسی
Image caption مہمند ایجنسی میں عید گاہوں اور مساجد سمیت دیگر مقامات پر 400 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق کہ یہ واقعہ تحصیل انبار کے علاقے شاتی مینہ میں اس وقت پیش آیا جب علاقے کے لوگ نماز عید کی ادائیگی کے لیے مقامی مسجد میں جا رہے تھے۔

صحافی انور شاہ کے مطابق انھوں نے بتایا کہ دھماکہ سڑک کے کنارے نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کے نام شاد علی، فقیر اور معاذ بتائے گئے ہیں اور ان میں سے دو کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جبکہ زخمی ہونے والوں میں قبائلی رہنما ملک علی رحمان بھی شامل ہیں۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن جاری ہیں جبکہ ایجنسی کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل یکہ غنڈ کے علاوہ تمام علاقوں میں جمعے کو عید الاضحیٰ منائی جا رہی ہے۔

اس موقع پر عید گاہوں اور مساجد سمیت دیگر مقامات پر 400 سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار کا گڑھ بتائی جاتی ہے۔

یہاں کچھ عرصہ قبل بھی ایک شدت پسند حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں