واشک میں عسکری قافلے پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل سمیت تین ہلاک

پنگور تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں اس سال کئی واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع واشک میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

اس حملے کے نتیجے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت تین اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ ایک اور لیفٹیننٹ کرنل سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے۔

گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

کوئٹہ میں دھماکہ، فرنٹیئر کور کے چھ اہلکار زخمی

بلوچستان: ضلع کیچ میں دھماکہ، چار ایف سی اہلکار ہلاک

کوئٹہ میں سرکاری حکام کے مطابق یہ واقعہ مرغاب کور کے علاقے میں پیش آیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکار گچک کے علاقے سے واپس جارہے تھے کہ پہلے سے گھات لگا کر بیٹھے ہوئِے نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔

پنجگور میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جس علاقے میں حملہ ہوا ہے وہ پنجگور کا علاقہ نہیں بلکہ ضلع واشک کا علاقہ ہے۔

ضلع واشک بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم نے انتظامیہ کو کہا ہے کہ وہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کریں۔

ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری اور وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بھی مرغاب کور کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امن دشمن سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر چھپ کر حملے کررہے ہیں۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچ جانے والے چند امن دشمنوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں