’پلیز میرے ابو واپس کردیں'

مظاہرہ
Image caption سماجی کارکنان کے مطابق اندرون سندھ میں گذشتہ دو مہینے میں جبری گمشدگیوں کے ایک سو سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں

'میں سارا دن دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہوں کہ شاید اب ابو آئیں۔ جب بھی دستک ہوتی ہے تو میرا دھیان ابو کی ہی طرف جاتا ہے۔ وہ بیمار ہیں۔ پتہ نہیں انھیں دوا بھی ملتی ہو گی یا نہیں۔ میں روز اپنے ہاتھ سے ابو کو دوا دیتی تھی۔

آخر میرے ابو کا قصور کیا ہے؟ پلیز میرے ابو واپس کر دیں۔'

وائس فار مسنگ پرسنز کے کنوینر پنہل ساریو ’لاپتہ‘

2016 میں 728 افراد لاپتہ ہوئے: ایچ آر سی پی

سندھ کے لاپتہ کارکنوں کے لیے لانگ مارچ

ریاستِ پاکستان سے یہ التجا 24 سالہ ماروی ساریو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی جنھیں رات بھر یہ ڈر سونے نہیں دیتا کہ آیا ان کے والد اور سماجی کارکن پنھل ساریو زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

ماروی حیدآباد کے قاسم ٹاؤن میں دو کمروں کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی ہیں۔ وہ پانچ بہنیں ہیں اور ان کا ایک بھائی بھی ہے لیکن اس کا ذہنی توازن درست نہیں اس لیے وہ ہسپتال میں ہے۔

اس صورتحال میں گھر میں واحد مرد پنھل ساریو ہی تھے لیکن اب ان کا نام بھی پاکستان میں لاپتہ افراد کی طویل فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔

پنھل ساریو حال ہی میں قائم کی جانے والی تنظیم وائس فور مسنگ پرسنز آف سندھ کے رہنما ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق تین اگست کو کمانڈوز کی وردی میں ملبوس ایک درجن کے قریب افراد اس وقت پنھل کو ان کی گاڑی سے نکال کر ساتھ لے گئے جب وہ اپنے ایک دوست کی سالگرہ کی تقریب سے واپس آ رہے تھے اور اس کے بعد سے ان کا کچھ پتہ نہیں۔

Image caption ماروی کا کہنا ہے کہ کوئی ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں اور وہ حکومت سے درخواست کرتی ہیں کہ ان کے والد کو برآمد کروایا جائے

ماروی کہتی ہیں 'میرے ابو نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔ وہ کوئی چور یا ڈاکو نہیں۔ پلیز انھیں سامنے لایا جائے۔ انھوں نے حیدآباد سے لاپتہ ہونے والے افراد کے لیے کراچی پریس کلب میں احتجاجی مظاہرہ کیا، بھوک ہڑتال کی اور اب ابو ہی غائب ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ 'ہم بہت اکیلے ہیں۔ لوگوں نے ہمارے گھر آنا چھوڑ دیا ہے۔ مالک مکان کہتا ہے گھر چھوڑ دو۔ کوئی ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں۔ میں حکومت سے درخواست کرتی ہوں میرے ابو کو برآمد کروائے۔'

یہ صرف ساریو گھرانے کی کہانی نہیں۔ حیدرآباد پریس کلب میں سماجی کارکن اور صحافی بادل نوحاٹی کے گھر والے بھی سراپا احتجاج ہیں۔ 80 برس سے زیادہ عمر کی بوڑھی ماں اور بادل کی اہلیہ زبیدہ نے نو اگست کے بعد سے انھیں نہیں دیکھا۔

سات ماہ پہلے ہی بادل کی شادی ہوئی تھی اور زیبدہ حاملہ ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا 'وہ بیمار بھتیجے کو گھر چھوڑ کر پریس کلب کے لیے نکلے۔ راستے میں ایک ویگو گاڑی اور چند پولیس اہلکاروں نے روک کر نام پوچھا اور پھر کپڑا ڈال کر اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ وہ گھر کے واحد کمانے والے ہیں۔ ان کی بوڑھی ماں رو رو کر تھک گئی ہے۔ ہمارا کیا بنے گا؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption پنھل ساریو حال ہی میں قائم کی جانے والی تنظیم وائس فور مسنگ پرسنز آف سندھ کے رہنما ہیں

ان کا کہنا تھا کہ 'کسی کو کچھ پتہ نہیں وہ کہاں ہے۔ پولیس پرچہ نہیں کاٹتی۔ عدالت تاریخ پر تاریخ دے رہی ہے۔ خدا کے لیے ہمیں بتائیں میرے شوہر کہاں ہیں۔ ہم جس حال میں ہیں کوئی نہیں جانتا ۔ اب تو مجھے بھی ڈر لگتا ہے کہ پتہ نہیں وہ زندہ ہیں بھی یا نہیں۔'

سماجی کارکنان کے مطابق اندرون سندھ میں گذشتہ دو مہینے میں جبری گمشدگیوں کے ایک سو سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان 45 افراد کی گمشدگی کی تصدیق کرتا ہے۔

اس سلسلے میں ہیومن رائٹس کمیشن کے نائب چیئرمین اسد اقبال بٹ کا کہنا ہے کہ کہ 'پاکستان میں ریاستی اداروں کی جانب سے لوگوں کو غائب کرنے کا رجحان نیا نہیں لیکن ہماری تحقیقات کے مطابق تازہ واقعات میں سادہ لباس میں ملبوس افراد کی بجائے اب اپنی باوردی لوگ جا کر لوگوں کو اٹھا رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں لوگ ہمارے پاس نہیں۔'

اس سلسلے میں انہوں نے مزید کہا 'بلوچستان میں لوگ غائب ہوتے آئے ہیں۔ مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں لیکن سندھ میں پہلے کبھی کبھار ایک دو واقعات ایسے ہوتے تھے مگر گذشتہ دو برسوں میں جس رفتار سے لوگ سندھ سے لاپتہ ہو رہے ہیں یہ بہت خطرناک ہے۔'

Image caption حیدرآباد پریس کلب میں سماجی کارکن اور صحافی بادل نوحاٹی کے گھر والے بھی سراپا احتجاج ہیں

اسد بٹ کے مطابق 'اب جبری گمشدگیوں میں صرف قوم پرستوں کے نام ہی نہیں بلکہ وہ سماجی کارکن اور صحافی بھی شامل ہیں ہیں جو لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیا شہریوں کے کوئی حقوق نہیں، ایسا لگتا ہے جیسے یہاں جنگل کا قانون ہو۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'اگر کوئی جرم کرتا ہے تو اس کے لیے عدالتیں موجود ہیں لیکن جب ان ادارے پر جو لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے ذمہ داری ہے، ان پر غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے لوگوں کو غائب کرنے کے الزامات لگیں تو اس سے معاشرے میں انارکی پھیلتی ہے اور لوگوں کا ریاستی اداروں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔'

پاکستان میں شہریوں کی جبری گمشدگیوں کے معاملے پر زیادہ تر سیاسی جماعتیں اور مقامی میڈیا چپ سادھے بیٹھا ہے جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی غیر آئینی اقدامات کرنے والوں کو مزید شہ دے گی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا مشکل ہوتا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں