نیب کی نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیب کے حکام نے ان ریفرنس میں نگراں مقرر کیے گئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کو آگاہ کر دیا ہے

قومی احتساب بیورو نے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور اُن کے بچوں کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ان ریفرنس کی منظوری جمعرات کو قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کی سربراہی میں ہونے والے نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں دی گئی۔

٭ نیب کو جے آئی ٹی کے ارکان کا بیان لینے کی اجازت

٭ نواز شریف کے بچوں نے بھی نظرِ ثانی کی اپیل دائر کر دی

٭ نواز شریف کی ایک مرتبہ پھر نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذوری

٭ 70 برس میں پاکستان پر بیشتر وقت آمریت کا سایہ

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نواز شریف اور اُن کے دو بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاد دو ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کیے جائیں گے۔ یہ ریفرنس آف شور کمپنیوں اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بیرون ملک قائم کی گئی العزیزیہ سٹیل مل کے متعلق ہیں جبکہ راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں لندن میں پارک لین میں مے فیئر اپارٹمنٹس کا ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

اس ریفرنس میں سابق وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کے علاوہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر بھی ان کے خلاف راولپنڈی کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

نیب کے حکام یہ ریفرنسز 8 ستمبر کو احتساب عدالتوں میں دائر کریں گے۔

نیب کے حکام نے ان ریفرنسز کی تیاری کے سلسلے میں میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کا موقف معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم ان میں سے کوئی بھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا۔

ان افراد کے وکلا کا موقف ہے کہ جب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ کہہ دیا تھا کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کیے جائیں تو پھر نیب حکام کے سامنے پیش ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔

پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے 28 جولائی کے فیصلے میں نیب کے حکام کو میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف چھ ہفتوں میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ معیاد 8 ستمبر کو ختم ہو رہی تھی۔

نیب کے حکام نے ان ریفرنس میں نگراں مقرر کیے گئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کو آگاہ کر دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں احتساب عدالتوں کو بھی ریفرنس دائر ہونے کے چھ ماہ کے اندر اندر ان ریفرنسز پر فیصلہ دینے کے بارے میں بھی احکامات جاری کیے ہیں۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور اُن کے بچوں کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بارے میں نظرثانی کی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جنہیں ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

Image caption نیب کے حکام ریفرنسز 8 ستمبر کو احتساب عدالتوں میں دائر کریں گے

نظرثانی کی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے محض مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر ہی انحصار کیا اور اس رپورٹ کے ساتھ ناقابل تردید شواہد بھی نہیں لگائے گئے اور محض ’ذرائع‘ پر ہی انحصار کیا گیا۔

نظرثانی کی ان درخواستوں میں سپریم کورٹ سے اپنا فیصلہ واپس لینے اور نگراں جج کو ہٹانے کے بارے میں استدعا کی گئی ہے۔

نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

نیب کے حکام نے پاناما لیکس سے متعلق درخواست کی سماعت کے آخری روز یہ موقف اختیار کیا تھا کہ نیب کے حکام حدیبہ پیپرز مل کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں۔

اس مقدمے میں میاں نواز شریف، وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی ملزمان میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں