’امریکہ خطے کے حالات سے غافل ہے، پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا بنانا قبول نہیں ہو گا‘

خواجہ آصف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ پالیسی بیان کے تناظر میں کہا ہے کہ پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا بنانا ہمارے لیے ناقابل قبول ہے اور یہ بات باقی دنیا پر بھی واضح ہونی چاہیے۔

اسلام آباد میں خارجہ امور پر پاکستانی سفیروں کی کانفرنس کے بعد خواجہ آصف نے میڈیا کانفرنس سے خطاب میں امریکہ کے ساتھ مختلف معاملات پر پائے جانے والے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں جو ہو رہا ہے اس کے بارے میں امریکہ مکمل طور پر نہیں تو جزوی طور پر غافل ہے۔

٭ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں نہیں ہیں: بریکس اعلامیہ مسترد

٭ بریکس کی جانب سے لشکر طیبہ، جیش محمد کی مذمت

٭ ’لگتا ہے کہ تیسری افغان جنگ شروع ہونے والی ہے‘

٭ ’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘

٭ ’پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی امریکی صلاحیت محدود‘

خواجہ آصف نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ 'پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا بنانے کو قبول نہیں کیا جائے گا اور یہ بات باقی دنیا پر بھی واضح ہونی چاہیے۔ ہم ایک باعزت اور خود دار قوم ہیں اور ہم اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ اپنی علاقائی سالمیت اور قومی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔'

انھوں نے اس کے ساتھ امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ'ہم ان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں اور انھیں قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن انھیں ہماری بنیادی اہمیت کا احترام کرنا چاہیے۔'

پاکستان کے وزیر خارجہ جمعے کو چین کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں اور یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب صدر ٹرمپ کے افغانستان کے بارے میں پالیسی بیان میں پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملے پر سخت زبان میں تنبیہ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ حال ہی میں چین میں دنیا کی پانچ اہم ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس نے پہلی مرتبہ اپنے اعلامیے میں پاکستان میں پائی جانے والی شدت پسند تنظیموں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کا ذکر بھی کیا ہے۔

پاکستان نے برکس کے مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔

چین کے دورے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ 'ہم دوست ہیں اور دوستوں کی ایک دوسرے سے ملاقات ہونی چاہیے اور ہم مختلف مسائل پر ایک دوسرے کی پوزیشن کو جانتے ہیں لیکن مشاورت جاری رہنی چاہیے اور یہ ہی ان کے دورے کا ایجنڈا ہے۔'

اسی بارے میں