خیبر ایجنسی میں گانے بجانے پر پہلے معافی تلافی پھر آلات موسیقی نذرِ آتش

موسیقی کے آلات
Image caption اس کارروائی میں دارالعلوم صدیقیہ خانقاہ بنوریہ کے سجادہ نشین کو پولیٹیکل انتظامیہ کی معاونت حاصل تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں نماز جمعہ کے بعد آستانہ بنوریہ آشخیل میں موسیقی کے آلات نذر آتش کر دیے گئے ہیں۔

یہ آلات موسیقی عید کے روز ایک محفل موسیقی پر چھاپا مار کر برآمد کیے گئے تھے۔

لنڈی کوتل کے علاقے آشخیل میں دارالعلوم صدیقیہ خانقاہ بنوریہ کے سجادہ نشین سید محمد ابراہیم المعروف باچا جان نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ ان کے علاقے میں شراب نوشی، جوا اور موسیقی کی محفلوں پر پابندی عائد ہے لیکن عید کے روز کچھ لوگوں نے وہاں موسیقی کی محفل سجائی تھی۔

سوات: گھروں میں رقص اور موسیقی پر پابندی

بونیر میں خواجہ سراؤں کے مجروں پر پابندی

رباب کی آن لائن اکیڈمی

انھوں نے مقامی رہنما، مریدین اور خاصہ داروں کے ساتھ مل کر چھاپے مارے اور موسیقی کے آلات اور ان لوگوں کو دارالعلوم لایا گیا تھا۔

سید محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ محفل موسیقی منعقد کرنے والے افراد نے جمعے کی نماز کے بعد مدرسے میں معافی مانگی اور یہ ضمانت دی کہ آئندہ وہ اس طرح کی محفلیں منعقد نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ نماز کے بعد موسیقی کے آلات جن میں ڈھول اور دیگر آلات شامل تھے نذر آتش کر دیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس کارروائی میں انھیں پولیٹیکل انتظامیہ کی معاونت حاصل تھی۔

سید محمد ابراہیم نے بتایا کہ ان کے علاقے میں اس طرح کی سرگرمیوں پر پابندی ہے اور یہ محفل کوئی دس سال بعد منعقد کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عید کے روز اس طرح کی تین سے چار محفلیں سجائی گئی تھیں لیکن دیگر لوگوں کو پہلے ہی چھاپے کا علم ہو گیا تھا اس لیے وہ محفلیں سمیٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس طرح کی محفلیں سجانے والے جو لوگ مزاحمت کرتے ہیں ان کے خلاف وہ اور علاقے کے قبائلی رہنما مشترکہ کارروائی کرتے ہیں اور ایسی محفلیں سجانے والے افراد کے دو کمرے نذر آتش کر دیے جاتے ہیں۔

اس علاقے میں موسیقی کے آلات کو ایک بڑے عرصے کے بعد نذر آتش کیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی میں شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے لوگ بھی اس طرح کی محفلیں منعقد نہیں کر رہے تھے۔

یاد رہے عید کے روز لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے 18 افراد کو نامعلوم افراد اس وقت اغوا کر کے ساتھ لے گئے جب وہ علاقے سے کچھ دور انزیرو اوبو کے مقام پر پکنک منانے گئے تھے۔

ان افراد کو اب تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا اور یہاں ایسی اطلاعات ہیں کہ چھ رکنی جرگہ افغانستان گیا ہے جو وہاں علاقے میں رہنماؤں سے مذاکرات کر کے مغویوں کو بازیاب کرا نے کی کوششیں کریں گے۔

اسی بارے میں