کراچی: ایک ہی خاندان کے 11 افراد سمندر میں ڈوب گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیال رہے کہ ان دنوں سمندر میں طغیانی ہوتی ہے اور ساحلی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ ہوتی ہے (فائل فوٹو)

کراچی میں ہاکس بے پر پکنک کے لیے جانے والے ایک ہی خاندان کے 11 افراد سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایدھی حکام کے مطابق ڈوبنے والے تمام 11 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ ایک خاتون سمیت آٹھ لاشوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہ افراد سیر کی غرض سے ہاکس بے پر گئے تھے، جہاں ان میں سے چند افراد پانی کی تیز لہروں میں ڈوب گئے جبکہ انھیں بچانے کی کوشش میں دیگر افراد بھی لہروں کی نذر ہو گئے۔

واقعے کے بعد سندھ کے وزیرداخلہ سہیل انور خان سیال نے ڈوب کر ہلاک ہونے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو فوری طور پر ریسکیو اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے کہ ان دنوں سمندر میں طغیانی ہوتی ہے اور ساحلی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ ہوتی ہے، جبکہ پولیس لوگوں کو یہاں نہانے یا قریب جانے سے روکنے کے لیے موجود ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پچیس سالہ علی، اٹھائیس سالہ وہاج،، تیس سالہ عمیر، پچاس سالہ سعود، بیس سالہ طعہ، اٹھارہ سالہ فلزا، تیس سالہ عاطف، بارہ سالہ حمزہ، پندرہ سالہ عباد سعود اور چھبیس سالہ علی شامل ہیں۔

صوبائی وزیرداخلہ سہیل انور خان سیال نے پولیس کو ساحل سمندر پر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں