'جب گاندھی کا قتل ہوا تو ہم گھبرا گئے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سعید سلام کہتے ہیں کہ جب اعلان ہوا کہ گاندھی کا قاتل ہندو ہے تو سب نے سکون کا سانس لیا۔

'جب گاندھی کا قتل ہوا تو ہم گھبرا گئے۔ مگر جب تھوڑی دیر کے بعد اعلان ہوا کہ گاندھی کا قاتل ہندو ہے، مسلمان نہیں، تو ہم سب نے سکون کا سانس لیا۔'

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادئ تیراہ سے تعلق رکھنے والے سعید سلام تقسیم ہند کے وقت ممبئی (بمبئی) میں تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جب 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا تو شہر کی فضا میں کچھ تناؤ آگیا تھا۔ مگر وہاں آباد پختونوں کو کسی نے کچھ نہیں کہا۔

تقسیم ہند کے 70 سال: خصوصی ضمیمہ

سعید سلام بھی ہزاروں پختونوں کی طرح روزگار کی تلاش میں ہندوستان گئے تھے۔ 'میری عمر 99 سال ہے۔ میں نے بمبئی میں مجموعی طور پر 35 سال گزارے ہیں۔ تقسیم کے بعد بھی میں ساڑھے تیرہ برس وہاں رہا۔'

Image caption سعید سلام نے ممبئی میں پینتیس سال گزارے

ناخواندہ اور بے ہنر ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی اکثریت ہندوستان کے مختلف شہروں میں چوکیداری اور محنت مزدوری کرتی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ مہاتما گاندھی کو انھوں نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ 'گاندھی بہت ہی دبلے پتلے تھے۔ میری طرح سہارا لے کر چلتے تھے۔'

سعید سلام کہتے ہیں کہ ممبئی میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اور مراٹھی زبان تو انھوں نے بھی سیکھ لی تھی۔

تقسیم کے بعد بہت سے پختونوں نے انڈیا ہی کی شہریت لے لی تھی اور وہیں کی ثقافت میں رچ بس گئے تھے۔

میرا ایک بھائی تو بمبئی ہی میں رہا۔ اس کا انتقال بھی وہیں ہوا۔ اس کے پاس انڈین پاسپورٹ تھا۔ ہمارے پاس تو پاکستانی پاسپورٹ تھے۔'

Image caption 99 سالہ سعید سلام کا تعلق قبائلی علاقے تیراہ سے ہے

سعید سلام نے بتایا کہ جب 1965 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ چھڑی تو وہ ممبئی میں تھے اور انھیں بھی بہت سے پاکستانیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سیعد سلام ممبئی میں گزرے دنوں کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ ان کے بقول وہاں کے لوگ نرم مزاج تھے اور پختونوں کے ساتھ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں