کوئٹہ: ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعے میں چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کم ازکم چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کم ازکم چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

فائرنگ کا واقعہ کوئٹہ شہر کے شمال میں کچلاک کے علاقے میں پیش آیا۔

کچلاک میں پولیس کے ایک افسر نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے افراد افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے کوئٹہ جارہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ گاڑی جس میں حملے کا نشانہ بننے والے افراد سفر کررہے تھے جلوگیر کے مقام پر تیل ڈالنے کی رکی تھی۔

اس موقع پر نامعلوم مسلح افراد آئے اور انھوں نے گاڑی میں سوار افراد پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد جائے وقوعہ پر ہلاک ہوگئے جبکہ تین شدید زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں ہسپتال میں ایک اور زخمی نے دم توڑدیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔ رواں سال کے دوران بلوچستان میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر یہ تیسرا حملہ ہے۔

اس سے قبل 19جنوری کو مستونگ کے علاقے میں کوئٹہ سے کراچی جانے والے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد پر ایک حملے میں ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مستونگ میں رونما ہونے والے واقعے سے قبل کوئٹہ شہر میں فائرنگ سے ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔ ان کو کوئٹہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

دس سال سے زائد کے عرصے میں ان حملوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ان پر حملوں کے واقعات میں بہت کمی آئی ہے۔

اسی بارے میں