پاکستان میں پہلی مرتبہ زندہ بلیو وہیل دیکھی گئی

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی زندہ بلیو وہیل کو پاکستان کی سمندری حدود میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔ تصویر کے کاپی رائٹ WWF
Image caption ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی زندہ بلیو وہیل کو پاکستان کی سمندری حدود میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔

دنیا بھر میں ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں ایک دیو ہیکل ’بلیو وہیل‘ اور اس کا بچہ دیکھا گیا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ یہ ماں اور بچہ وہیل اس وقت چرنا جزیرے کے قریب دیکھا گیا جب ماہی گیر سعید زمان اور اس کے ساتھی، ٹونا مچھلی کے شکار کے لیے سمندر میں موجود تھے۔

کیا ہلسا مچھلی معدوم ہو رہی ہے؟

نئی مخلوط النسل مچھلی جاپانیوں کے لیے دردِ سر

اس دوران انھوں نے ایک جگہ سے فوارے کی طرح پانی بلند ہوتا دیکھ کر اس مقام کا رخ کیا اور وہاں موجود وہیل کی تصویریں لیں جو ڈبلیو ڈبلیو ایف کو بھیجی گئیں جہاں ماہرین نے اس کی تصدیق کی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی زندہ بلیو وہیل کو پاکستان کی سمندری حدود میں دیکھا گیا ہے۔

پاکستان کی سمندری حدود میں گذشتہ ایک سال کے دوران 47 مرتبہ مختلف وہیلوں کو دیکھا گیا ہے لیکن ان میں سے بلیو وہیل ایک بار بھی نظر نہیں آئی۔

ماہی گیر کے مطابق بلیو وہیل ان کی کشتی کی لمبائی کے برابر تھی جو کہ 17 میٹر ہے جبکہ بچے کے سطح پر نہ آنے کی وجہ سے اس کے حجم کا اندازہ نہیں ہوسکا۔

بلیو وہیل اس سے قبل متعدد بار پاکستان کے ساحل پر مردہ حالت میں پائی گئی ہے، آخری بار تین سال قبل سندھ کے علاقے کھڈی کریک سے بلیو وہیل کا ڈھانچہ ملا تھا۔

ڈبیلو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ بلیو وہیل کو دنیا میں طویل ترین جانور تصور کیا جاتا ہے، جس کی لمبائی 30 میٹر تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

دنیا میں ان کی تعداد کا تخمینہ 10 ہزار سے 25 ہزار لگایا گیا ہے۔ آئی یو سی این کے مطابق اس کی نسل خطرے سے دوچار ہے اور یہ ناپید جانداروں کی ریڈ لسٹ میں شامل ہے۔

آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ کے مطابق ایک مادہ بلیو وہیل دو یا تین برسوں میں ایک بار بچہ دیتی ہے جس کا ابتدائی وزن ڈھائی ٹن اور لمبائی سات میٹر ہوتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ بلیو وہیل کی خوراک جھینگے کی ایک مخصوص قسم ہے، جسے کرل کہا جاتا ہے اور یہ جھینگا بحیرۂ عرب میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ علاقے بلیو وہیل کے لیے باعث کشش ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ایڈوائیزر محمد معظم کا کہنا ہے کہ زندہ بلیو وہیل کا نظر آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں کئی اقسام کی سمندی حیات موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں وہیل کا نظر آنے کی بڑی وجہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی موثر نگرانی ہے جس میں سندھ اور بلوچستان میں سو سے زیادہ ماہی گیروں اور خاص طور پر ناخداؤں کی تربیت کی گئی ہے جو وہیل، شارک، ڈولفن اور دیگر نایاب سمندری مخلوقات کی نگرانی کرتے ہیں اور ان کی جال سے رہائی کو یقینی بناتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینیئر ڈائریکٹر رب نواز کا کہنا ہے کہ چرنا جزیرہ وہیل، شارک، سن فش سمیت کورل یعنی ساحلی مرجان کی آماجگاہ ہے۔

ان کے مطابق حکومت بلوچستان کو اس جزیرے کو بھی تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان حکومت استولا جزیرے کو محفوظ قرار دے چکی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں