توہینِ عدالت کیس میں عمران خان کے وارنٹ جاری

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عدالت نے عمران خان کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کے مقدمے میں پیش نہ ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے عمران خان کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے عمران خان کے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی تو عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو کر کہا کہ اُنھوں نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرر کھا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ اس کی سماعت کرے گا۔

٭ 'عمران خان ایک ہفتے میں مالی تفصیلات جمع کروائیں'

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا آج ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ اس کی سماعت کرے گا؟ جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان ہے کہ عدالت عالیہ آج ہی اس کی سماعت کرے گی۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل عدالتوں اور اداروں کا احترام کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن جب بھی کہے گا عمران خان پیش ہو جائیں گے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان اداروں کا احترام نہیں کرتے اگر ایسا ہوتا تو اُنھیں آج الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونا چاہیے تھا۔

اُنھوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائے۔

الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اُنھیں 25 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے غیر ملکی فنڈنگ لینے کا معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت اپنے روبرو پیش نہ ہونے پر عمران خان کے نہ صرف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے بلکہ اُنھیں اشتہاری بھی قرار دے چکی ہے۔

اسی بارے میں