کرم ایجنسی میں ایم ایس ایف کو طبی مراکز بند کرنے کا حکم

پاکستان، صحت عامہ، طبی مراکز
،تصویر کا کیپشن

ایم ایس ایم کے طبی مراکز کرم ایجنسی میں گذشتہ 14 سال سے کام کر رہے ہیں

پاکستان کی حکومت نے طب کے شعبے میں سرگرم عالمی امدادی ادارے ایم ایس ایف (میدساں ساں فرنتیئر) کو قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں اپنے دو طبی مراکز بند کرنے اور ایک ہفتے کے اندر ایجنسی چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

ایم ایس ایف کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کو این او سی میں توسیع دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

پاکستان میں ایم ایس ایف کے نمائندے کیتھرین موڈی نے طبی مراکز کی بندش پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ادارہ گذشتہ 14 برس سے کرم ایجنسی میں لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ فاٹا کی خواتین اور بچوں کو پشاور میں واقع ایم ایس ایف کے زیر انتظام خواتین ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات جاری رکھی جائیں۔

یاد رہے کہ کرم ایجنسی میں عالمی طبی ادارے ایم ایس ایف کے زیرانتظام دو طبی مراکز کام کر رہے ہیں۔ ان طبی مراکز میں سے ایک علی زئی ہسپتال جبکہ دوسرا صدہ سب ڈویژن کے ہسپتال میں میں واقع ہے۔

صدہ سول ہپستال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انور نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کے ہسپتال میں واقع ایم ایس ایف کے طبی مرکز کو ایک ہفتے کے اندر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ دو دنوں سے ایم ایس ایف کے طبی مرکز میں کام بند ہے جبکہ ان کے ملازمین اپنا سامان اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر انور کے مطابق اس مرکز کی بندش سے اب ان پر کام کا بوجھ بڑھے گا کیونکہ یہاں پہلے ہی سٹاف اور جدید آلات کی کمی ہے۔

ہسپتال کے ایک اور ڈاکٹر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ایم ایس ایف کے مرکز سے مریضوں کو بہت فائدہ پہنچ رہا تھا کیونکہ ان کا تمام عملہ انتہائی تربیت یافتہ اور مرکز جدید طبی آلات سے لیس تھا۔

ایم ایس ایف کے طبی مرکز کے ایک ملازم نے بتایا کہ دو دن پہلے چند سرکاری اہلکار آئے اور انھوں نے مرکز کے انچارج کو فوری طور پر کام بند کرنے اور عملے کو ایجنسی سے جانے کا کہا۔

ایم ایس ایف کے مطابق طبی مرکز میں تقریباً 35 ملازمین کام کر رہے تھے۔

ایم ایس ایف کے مراکز بند کرنے کے بارے میں کرم ایجنسی کے انتظامیہ کا موقف جاننے کی کو کشش کی، لیکن کئی بار رابطے کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

یار رہے کہ ایم ایس ایف کے طبی مراکز باجوڑ ایجنسی اور ملک کی دیگر صوبوں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی عوام کو طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔