حدیبیہ ریفرینس: نیب کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

سپریم کورٹ
Image caption سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں نہ تو کسی کو مجرم اور نہ ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو حتمی اور مستند قرار دیا ہے

پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے لاہور ہائی کورٹ کے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس بند کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق نیب جمعے کو اس بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔

نواز شریف اور عدالتیں

ادھر پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ججز کی طرف سے دی گئی آرا احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ہونے والی کارروائی پر اثرانداز نہیں ہوں گی۔

حدیبیہ ملز ریفرنس وہ مقدمہ ہے جس کا ذکر پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ اور پھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی دو ماہ کی تحقیقات کے دوران بارہا سنا گیا تھا اور اس وقت نیب کے سربراہ نے کہا تھا کہ ادارہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو اس ریفرینس پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا۔

حدیبیہ ریفرنس مشرف دور میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔

نظرِ ثانی کی اپیلیں

جمعرات کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے پاناما کیس کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیلوں کی سماعت کے دوران جج صاحبان نے کہا ہے کہ اس اپیل کے دوران ان کی طرف سے دی گئی آرا احتساب عدالت میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ہونے والی کارروائی پر اثرانداز نہیں ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حدیبیہ ریفرنس مشرف دور میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں نہ تو کسی کو مجرم قرار دیا ہے اور نہ ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو حتمی اور مستند قرار دیا ہے۔

٭ 'پاناما کیس کے فیصلے کی تہہ میں جایا جائے تو پھر شکایت نہ کیجیے گا'

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو ریفرنس تیار کرنے اسے متعلقہ احتساب عدالت میں دائر کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ نامکمل چالان پر کیسے ریفرنس دائر کیا جاسکتا ہے، جس میں قانونی تقاضے بھی پورے نہ ہوئے ہوں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پاناما لیکس سے متعلق عدالتی فیصلے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر کہا ہے کہ بادی النظر میں اس رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس بن سکتا ہے تاہم حقائق کی روشنی میں احتساب عدالت فیصلہ کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ اپنے فیصلوں میں آزاد ہوتی ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر ریفرنس میں یا جے آئی ٹی کی رپورٹ میں خامیاں موجود ہیں تو اس کا فائدہ تو ملزمان کو ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NAB
Image caption لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو حدیبیہ ریفرنس پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا

نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب عدالت نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی کے ارکان کی نہ صرف تعریف کی ہے بلکہ اُنھیں ان کے خاندان کے افراد کو تحفظ دینے کا حکم دیا گیا ہے تو ایسے حالات میں یہ فیصلہ ٹرائل کورٹ پر تو اثر انداز ضرور ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ جب احتساب عدالت میں اس معاملے کو اُٹھایا جائے گا تو ٹرائل کورٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ نکال کر سامنے رکھ دے گی جس میں جے آئی ٹی کے ارکان کی تعریف کی گئی ہے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ عدالتی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی شخصیت کے خلاف مقدمے میں کوئی نگراں جج مقرر کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی مانیٹرنگ کے لیے جج تو مقرر کیے جاتے ہیں لیکن اس میں بھی کسی خاص مقدمے کے لیے جج مقرر نہیں کیے جاتے۔

نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے جج مقرر کرنا ہی ہے تو ایسے جج کو بطور نگراں مقرر کیا جائے جس نے پاناما لیکس کے مقدمے کی سماعت نہ کی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کسی کے بھی بنیادی حقوق کو متاثر نہیں ہونے دے گی۔

اُنھوں نے نواز شریف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب ماضی میں ان کے موکل کے حقوق کی پامالی کی جارہی تھی تو یہی سپریم کورٹ تھی جس نے ان کے حق میں آواز اُٹھائی اور اُنھیں ریلیف فراہم کیا۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے کو احتساب بیورو کو دیکھنے کا حکم جاری کرسکتی تھی جس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس کی درخواستوں کی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اس کے بعد یہ معاملہ نیب کو نہیں بھیجا جاسکتا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ چیئرمین نیب پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر نیب کو ریفرنس دائر کرنے کے بارے میں کہا جاتا تو ہو سکتا تھا کہ نیب کے چیئرمین یہ ریفرنس ہسپانوی زبان میں بھجواتے۔

وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ جمعے کے روز اپنے دلائل دیں گے اور اس بات کا امکان ہے کہ جمعے کو نطرثانی کی درخواستوں پر عدالتی کارروائی مکمل ہوجائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں