’قانون کو اندھا ہونا چاہیے جج کو نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے فیصلے سے متعلق سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کی رپورٹنگ کے لیے جب میں سپریم کورٹ جارہا تھا تو راستے میں اپنے ذہن میں سپریم کورٹ کے باہر ممکنہ مناظر کی تصویر کشی کررہا تھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ سپریم کورٹ کے باہر وہی ماحول ہو گا جو پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت پر تھا۔ یعنی سپریم کورٹ کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے وہاں پر پارکنگ بھی نہیں ملے گی، حکمراں جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما باری باری کیمروں کے سامنے اپنی حاضریاں لگوا رہے ہوں گے اور کمیرہ مین سپریم کورٹ میں داخل ہونے والی سیاسی شخصیات کی فوٹیج بنا رہے ہوں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر متحرک افراد سپریم کورٹ کی احاطے میں سلفیاں بنا کر اپ لوڈ کر رہے ہوں گے۔

جب سپریم کورٹ پہنچا تو حالات بالکل برعکس تھے، سیکیورٹی معمول سے کم تھی باہر کوئی رش نہیں تھا اور تو اور سپریم کورٹ کے باہر موجود متعدد کمیرہ مین کام نہ ہونے کی وجہ سے جمائیاں لے رہے تھے۔

نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی کوریج کے لیے جب کمرہ عدالت نمبر دو میں گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہا گیا کہ بہت ساری کرسیاں خالی پڑی تھیں۔ پہلی نشستوں پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور شیخ رشید بیٹھے تھے جبکہ باقی نشتوں پر صحافی حضرات تشریف فرما تھے اور شائد پہلی بار صحافیوں کو نشتوں پر بیٹھ کر رپورٹنگ کرنے کا موقع ملا تھا۔

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اپنے دلائل میں اس بات پر ہی زور دیتے رہے کہ نامکمل تفتیش پر نواز شریف اور ان کے موکل کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا اور سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ سابق وزیر اعظم کے وکیل کو یہ یقین دھانی کرواتا رہا کہ اگر اس میں کوئی خامیاں رہ گئی ہیں تو اس کا فائدہ نواز شریف اور اس کے خاندان کو ہوگا۔

خواجہ حارث کے دلائل جب اسی نکتے پر ہی بہت زیادہ ہوگئے تو جسٹس آصف سعید کھوسہ جو اس پانچ رکنی بینچ کی سربراہی بھی کرر ہے ہیں، کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالتوں میں نواز شریف کے خلاف کوئی پہلا مقدمہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی ماتحت عدالتوں میں جب اُن کے حقوق کی پائمالی ہوتی رہی تو یہ سپریم کورٹ ہی تھی جس نے اُنھیں ’ریسکو کیا‘ اور پھر ریلیف بھی فراہم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سماعت کے دوران سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور کا بھی ذکر آیا جب لوگوں کو سرعام پھانسی دی جاتی تھی اور پھر سپریم کورٹ نے ہی ایمنیسٹی انٹرنیشل کے محض ایک خط پر کارروائی کرتے ہوئے مجرموں کو سرعام پھانسی کے اقدام کو رکوا دیا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ’قانون کو اندھا ہونا چاہیے جج کو نہیں۔‘

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جج بارہا نواز شریف کے وکیل سے کہتے رہے کہ ان کا اعتراض نوٹ کرلیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود خواجہ حارث دلائل دیتے رہے اس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کورٹ پر اعتماد کریں سڑکوں پر نہیں۔‘

28جولائی سے پہلے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران میڈیا کے لوگ پارٹی کے سربراہوں اور سنیئر سیاست دانوں کے پیچھے دوڑتے تھے لیکن آج وہی سیاست دان میڈیا سے بات کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے باہر لگے ہوئے ڈائس کا رخ کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں