تبدیلی کا نعرہ لاہور میں کچھ تبدیل کر پائے گا؟

مریم تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اکیلی مریم جتنی باگ دوڑ کرسکتی تھیں انھوں نے کر لی

حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے لیے یہ سال امتحانات کا سال ہے۔ کہیں صحت کے سنگین مسائل تو کہیں عدالت میں مسلسل کھنچائی۔ اور اب اتنا کچھ برداشت کرنے کے بعد ایک اور کڑا امتحان سترہ ستمبر کو لاہور کا ضمنی انتخاب ہے۔

اکثر سیاسی پنڈت اس جماعت کا اس تمام صورتحال کے باوجود پلڑا بھاری قرار دے رہے ہیں لیکن شریف خاندان کے اہم رہنماؤں کی انتخابی سرگرمیوں میں عدم شرکت سے انتخابی مہم کچھ پھیکی پھیکی سے محسوس ہوئی۔

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف تو بدستور لندن میں اپنی اہلیہ کی تیمار داری کی وجہ سے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکے جس سے امید کی جاسکتی تھی کہ کچھ چنگاریاں ضرور اڑتیں۔ خود وہ امیدوار جس پر حکمراں جماعت نے تکیہ کیا یعنی کلثوم نواز پر اسے کامیابی دلانے کا اور نشست این اے 120 رکھنے کا، وہ خرابی صحت کی وجہ سے کچھ بھی نہ کرسکیں چنانچہ سیاسی اہمیت اختیار کر جانے والے اس حلقے میں انتخابی مہم کی ذمہ دار نواز خاندان کی سیاسی جانشین مریم نواز ٹھہریں۔

اس پھیکے پن میں کچھ ذمہ داری شاید انتخابی کمیشن کی بھی ہے۔ انتخابی مہم کے پہلے روز سے قوانین اور قواعد پر سو فیصد جیسے عمل درآمد کا اس نے اس مرتبہ مصمم تہیہ کر رکھا ہے۔ آج بھی ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سب کو یاد دہانی کروائی گئی کہ اس حلقے میں کوئی بھی جلسہ وجلوس قانون کے خلاف ہوگا کیونکہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت جلسہ نہیں کر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ چند سیاسی جماعتوں کی جانب سے شاید جلسے کی کوشش ہے۔

اس سے قبل تین اگست کو اسی قسم کے ایک اعلامیے میں کمیشن نے واضح کر دیا تھا کہ صدر سے لے کر وزیر اعظم تک اور سپیکر سے لے کر رکن قومی اسمبلی یا سینیٹ تک بلکہ صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اسمبلی اراکین بھی نہ تو اس حلقے میں پائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی اعلان یا خفیہ طور پر فنڈز کی صورت میں کوئی مدد کرسکیں گے۔ اس اعلان سے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کہیں بھی نہ تو تقاریر کرتے اور نہ ہی پمفلٹ تقسیم کرتے نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلم لیگ ن، تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد کو ہلکا یقیناً نہیں لے رہی

اکیلی مریم جتنی باگ دوڑ کرسکتی تھیں انھوں نے کر لی۔ کچھ لوگ اسے ان کے لیے عملی سیاست میں آمد کی ایک اچھی ابتدا قرار دے رہے ہیں اور اگر نواز لیگ کی جیت ہوتی ہے تو یہ ان کے قد کاٹھ میں اضافے کا باعث بنے گی۔ لیکن اس سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ یہ حلقہ ایک طویل عرصے سے نواز شریف کا مضبوط قلعہ ثابت ہوا ہے۔ اس قلعے پر تحریک انصاف نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی مضبوط امیدوار کو لا کر وار تو اچھا کیا ہے لیکن بعض تجزیہ نگار اس سے کسی دراڑ کے پڑنے سے انکاری ہیں۔ ووٹوں کی تعداد میں کمی بیشی تو ہوسکتی لیکن نتیجہ تبدیل ہوتا کم ہی کسی کو دکھائی دیتا ہے۔

مسلم لیگ ن، تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد کو ہلکا یقیناً نہیں لے رہی لیکن وہ چھوٹے موٹے امیدوار جیسے کہ ملی مسلم لیگ کے مبینہ حمایت یافتہ لیکن آزاد امیدوار محمد یعقوب شیخ کو بھی انھیں ہرانے کی ’سازش‘ کا حصہ مان رہی ہے۔ ان کے خلاف شکایت بھی کی گئی کہ ان کے دو چار ہزار ووٹ ہی کہیں آخری گنتی میں کلیدی ثابت نہ ہو جائیں۔

ضمنی انتخابات کی ایک اور روایت بھی مسلم لیگ (ن) کے حق میں جگتی ہے اور وہ یہ کہ اکثر ان مقابلوں میں وہی امیدوار کامیاب ہوتا ہے جو حکومت میں ہو۔ بےشک انتخابی کمیشن جتنی کوشش کر لے اب اس روایت کو تبدیل کرنا کوئی آسان کم نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ کے ووٹوں میں کمی کی وجہ شاید سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی بنے لیکن یہ نشست مسلم لیگ اس وقت بھی کامیاب رہی جب شریف خاندان ملک بدر تھے۔ دیکھنا تاہم یہ ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لاہور میں کچھ تبدیل کر پاتا ہے کہ نہیں۔

اسی بارے میں