مذہبی جماعت کی سیاسی جماعت اور آزاد امیدوار

ملی مسلم

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 کے لیے ہونے والے ضمنی انتخاب کی مہم کے آخری لمحات ہیں۔

این اے 120 کی نشست سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اس حلقے میں لاہور کے چند قدیم ترین علاقے آتے ہیں اور یہاں لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کے سنہ 2013 کی طرح اس بار بھی حقیقی مقابلہ ن لیگ کی امیدوار بیگم کلثوم نواز اور پاکستان تحریکِ انصاف کی یاسمین راشد کے درمیان ہی ہو گا۔

تاہم اس حلقے میں ایک نووارد آزاد امیدوار بھی ملکی سیاسی منظر نامے پر عمومی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ ان کی مبہم سیاسی حیثیت ہے۔

این اے 120: کہیں پٹرول تو کہیں لنگر

کیا محمد یعقوب شیخ واقعی آزاد امیدوار ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ملی مسلم لیگ نامی سیاسی جماعت ان کے لیے مہم کیوں چلاتی رہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملی مسلم لیگ کا ان کے ہاں سیاسی جماعت کے طو پر اندراج نہیں ہے۔

حلقہ این اے 120 کا دورہ کریں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ ملی مسلم لیگ آزاد امیدوار محمد یعقوب شیخ کے لیے بھرپور انداز میں مہم چلاتی رہی ہے۔ جگہ جگہ ان کے نام کے بینر آویزاں ہیں جن پر ان کے ہمراہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی تصاویر نمایاں ہیں۔

ملی مسلم لیگ کی مخصوص جرسیاں پہنے ان کے کارکنان آزاد امیدوار شیخ محمد یعقوب کے بینر آویزاں کرتے اور ان کے حق میں ریلیاں نکالتے نظر آئے۔ ابتدا میں جماعت الدعوۃ کا مؤقف تھا کہ حافظ سعید کی تصاویر ان کے چاہنے والوں نے از خود شیخ محمد یعقوب کے ساتھ لگائی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہارون خان کا کہنا تھا کہ حافظ سعید کی تصاویر والے بینرز کا نوٹس لیتے ہوئے محمد یعقوب شیخ کو انھیں ہٹانے کی ہدایات کی گئی تھیں جن پر مقامی حکومت کے ذریعے عمل بھی کروایا گیا ہے۔

’الیکشن کمیشن پہلے ہی سے ملی مسلم لیگ کے حوالے سے واضح کر چکا ہے کہ اس نام کی کوئی جماعت ہمارے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اگر کوئی ان کا نام استعمال کر رہا ہے تو وہ غیر قانونی ہے اور ہم اس کو رد کر چکے ہیں۔ اگر بالفرض وہ الیکشن جیت بھی جائیں تو وہ ملی مسلم لیگ کے نام سے اسمبلی میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔‘

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مال روڈ پر برگر کی دوکان لگانے والے محمد نصیر نے بتایا کہ اس علاقے میں آویزاں حافظ سعید کی تصویر والے بینر ملی مسلم لیگ کی جرسیاں پہنے کارکنان لگا کر گئے ہیں۔

اپنی دوکان کے سامنے آویزاں بینر کی طرف اشارہ کرتے ہویے ان کا کہنا تھا ’یہ بینر ہم نے تو نہیں لگائے۔ دو دن قبل پیلے رنگ کی جرسیاں پہنے لوگ آئے تھے یہ وہ خود لگا کر گئے ہیں۔‘

اسلام پورہ میں کام کرنے والے محمد صدیق بٹ کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بھی ملی مسلم لیگ کے کارکنان ہی بینر لگا کر گئے تھے۔

جماعت الدعوۃ، ملی مسلم لیگ، حافظ سعید اور شیخ محمد یعقوب کا باہم کیا تعلق ہے؟

جماعت الدعوۃ نے گذشتہ ماہ ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ حافظ محمد سعید جماعت الدعوۃ کے سربراہ ہیں۔ اس سال جنوری میں انھیں چار ساتھیوں سمیت وزارتِ داخلہ کے حکم پر لاہور میں نظر بند کر دیا گیا تھا جبکہ جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ادارے فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کو واچ لِسٹ میں شامل کر دیا گیا تھا۔

ملی مسلم لیگ نے این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا مگر ایسا وہ براہِ راست نہیں کر سکتے تھے کیونکہ الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعت کے طور پر اندراج میں وقت درکار ہوتا ہے۔

لہٰذا جماعت نے شیخ محمد یعقوب کی حمایت کا اعلان کر دیا جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے آزاد امیدوار کے طور پر ان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کرتے ہوئے انھیں ’انرجی سیور بلب‘ کا نشان الاٹ کیا تھا۔

ان کے کاغذاتِ نامزدگی پر کسی سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی خاص اعتراض نہیں کیا گیا تھا تاہم مہم کے دوران دیگر سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ ان کی مہم جماعت الدعوۃ اور ملی مسلم لیگ چلا رہی ہے۔

اس حوالے سے سیاسی جماعتوں میں تشویش کی کیا وجہ ہے جب کہ حلقہ میں دیگر مذہبی جماعتیں بھی موجود ہیں؟

دفاعی تجزیہ کار عامر رانا سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے لیے جماعت الدعوہ کا بیانیہ خطرناک ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ حافظ سعید تو وہی چاہتے ہیں جو قائد اعظم اور علامہ اقبال چاہتے تھے۔ اب اس کا جواب سیاسی جماعتیں کیا دیں گی۔

’دوسرا ان کو یہ لگتا ہے یہ جو جماعت یعنی ملی مسلم لیگ آئی ہے اس کے پیچھے شاید کچھ مقتدر حلقوں کا ہاتھ ہے اور اس سے وہ سیاسی قوتوں کو ناجائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا عمومی خوف تو بہرحال ہے اور اس پر الیکشن کمیشن اور وزارتِ داخلہ سختی سے نہیں نمٹیں گے تو یہ چلتا رہے گا۔‘

ان کہ کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ کی سیاسی جماعت شاید اس انتخاب میں تو زیادہ اثرانداز نہ ہو پائے مگر آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں وہ خصوصاً دائیں بازو کی جماعتوں چاہے وہ ن لیگ ہو یا تحریک انصاف، کے ووٹ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور ایسا خصوصاً جنوبی پنجاب میں ہو سکتا ہے۔

ملی مسلم لیگ از خود اس بات سے انکار نہیں کرتی کہ وہ شیخ محمد یعقوب کی مہم چلا رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ یہ اسی طرح ہے جیسے پاکستان میں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو ان میں مختلف برادریاں، انجمنیں یا تنظیمیں مختلف امیدواروں کی حمایت کرتی ہیں۔

’ملی مسلم لیگ شیخ یعقوب صاحب کو اہل سمجھتی ہے اور دیگر جماعتوں اور شخصیات کی طرح ان کی حمایت کر رہی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی قانون ایسا نہیں ہے جو آپ کو کسی کی حمایت کرنے یا ان کے لیے مہم چلانے سے روکے۔‘

اسی بارے میں