سپریم کورٹ کے ججز سوشل میڈیا پر زیرِ بحث کیوں؟

Image caption سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے سے قبل سماعت کے دوران کا منظر

سوشلستان میں کرکٹ کا جنون جاری ہے اور ورلڈ الیون اور 'نان پھٹیچر کھلاڑیوں ' کی آمد پر تبصرے اور تجزیے ایک بار پھر سامنے آ رہے ہیں۔ منظر کشی ایسی ہے کہ جیسے آئی سی سی نے اگلے دہائی کے لیے پاکستان میں میچز کا کیلنڈر جاری کر دیا ہو۔ اور ناقدین کے بقول اس اہم موقع پر بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے شائقین کی بجائے اپنی تجوری بھرنے کو ترجیح دی۔

مگر ہمارا موضوع پاناما کی واپسی اور سوشل میڈیا پر اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں تبصرے ہیں جن میں سپریم کورٹ کے ججز اور ان کے فیصلوں پر تحفظات، اعتراضات اور تبصروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف ہرزہ سرائی کی مہم

گذشتہ چند سالوں میں پاکستانی نیوز میڈیا کی نشریات کا اہم حصہ سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے والے کیسز ہیں جن کی کوریج کا پورا ایک نظام بن چکا ہے۔

تو اس نظام کی بدولت اب سوشل میڈیا پر ججز کے ریمارکس اور تبصرے سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ شیئر کیے جاتے ہیں اور ان پر تبصرے بھی لکھے جاتے ہیں۔

ججز کے لیے فلمی عنوانات کی تجویزوں سے لے کر ناولوں کے مشورے تک اب سوشل میڈیا پر دیے جاتے ہیں۔

پھر وزیرِ مملکت انوشہ رحمان کی بات بھی شیئر کی گئی کہ 'ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ شریف خاندان کے کیسز میں خود مدعی بن رہی ہے۔'

اور پھر جسٹس عظمت سعید شیخ کے ریمارکس بھی درجنوں بار شیئر کیے گئے کہ جس میں خواجہ حارث نے کہا کہ 'آپ نے بچوں کےخلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے دیا' جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا 'بچہ کوئی نہیں سب کے سب بالغ ہیں۔ بلکہ بچوں کے بھی بچے ہیں۔'

اور جعفر حسین نے لکھا

'بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف تمنا تھے

مگر اس کار دنیا میں بڑے دھبے لگے ہم کو'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسلام آباد کے مضافات میں واقع سیدپور گاؤں کا ایک حسین منظر۔ سیدپور جسے ایک زمانے میں ماڈل ویلج بنایا گیا تھا اب گندگی اور بدانتظامی کا نمونہ پیش کرتا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پشاور کے مضافات میں ایک خانہ بدوش بستی میں برف کا ٹکڑا لیے ایک بچی اپنے خیمے کے باہر کھڑی ہے

متعلقہ عنوانات