سپریم کورٹ کے ججز سوشل میڈیا پر زیرِ بحث کیوں؟

  • طاہر عمران
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام
سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشن

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے سے قبل سماعت کے دوران کا منظر

سوشلستان میں کرکٹ کا جنون جاری ہے اور ورلڈ الیون اور 'نان پھٹیچر کھلاڑیوں ' کی آمد پر تبصرے اور تجزیے ایک بار پھر سامنے آ رہے ہیں۔ منظر کشی ایسی ہے کہ جیسے آئی سی سی نے اگلے دہائی کے لیے پاکستان میں میچز کا کیلنڈر جاری کر دیا ہو۔ اور ناقدین کے بقول اس اہم موقع پر بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے شائقین کی بجائے اپنی تجوری بھرنے کو ترجیح دی۔

مگر ہمارا موضوع پاناما کی واپسی اور سوشل میڈیا پر اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں تبصرے ہیں جن میں سپریم کورٹ کے ججز اور ان کے فیصلوں پر تحفظات، اعتراضات اور تبصروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف ہرزہ سرائی کی مہم

گذشتہ چند سالوں میں پاکستانی نیوز میڈیا کی نشریات کا اہم حصہ سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے والے کیسز ہیں جن کی کوریج کا پورا ایک نظام بن چکا ہے۔

تو اس نظام کی بدولت اب سوشل میڈیا پر ججز کے ریمارکس اور تبصرے سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ شیئر کیے جاتے ہیں اور ان پر تبصرے بھی لکھے جاتے ہیں۔

ججز کے لیے فلمی عنوانات کی تجویزوں سے لے کر ناولوں کے مشورے تک اب سوشل میڈیا پر دیے جاتے ہیں۔

پھر وزیرِ مملکت انوشہ رحمان کی بات بھی شیئر کی گئی کہ 'ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ شریف خاندان کے کیسز میں خود مدعی بن رہی ہے۔'

اور پھر جسٹس عظمت سعید شیخ کے ریمارکس بھی درجنوں بار شیئر کیے گئے کہ جس میں خواجہ حارث نے کہا کہ 'آپ نے بچوں کےخلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے دیا' جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا 'بچہ کوئی نہیں سب کے سب بالغ ہیں۔ بلکہ بچوں کے بھی بچے ہیں۔'

اور جعفر حسین نے لکھا

'بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف تمنا تھے

مگر اس کار دنیا میں بڑے دھبے لگے ہم کو'

اس ہفتے کی تصاویر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

اسلام آباد کے مضافات میں واقع سیدپور گاؤں کا ایک حسین منظر۔ سیدپور جسے ایک زمانے میں ماڈل ویلج بنایا گیا تھا اب گندگی اور بدانتظامی کا نمونہ پیش کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

پشاور کے مضافات میں ایک خانہ بدوش بستی میں برف کا ٹکڑا لیے ایک بچی اپنے خیمے کے باہر کھڑی ہے