سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کا دائرۂ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش

فاٹا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں چند سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے مخالفت کے باوجود وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک بڑھانے کا بل قومی اسمبلی میں غور اور منظوری کے لیے پیش کر دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق یہ بل جمعے کو وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف زاہد حامد نے قومی اسملبی میں پیش کیا۔

فاٹا اصلاحات کی کہانی

'فاٹا اصلاحاتی مسودے میں انضمام کا لفظ نہیں'

اس اقدام سے ایک روز قبل ہی اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے متعلق ایک کل جماعتی کانفرنس میں پشاور کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ کو فاٹا میں توسیع دینے کی فیصلے پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

وفاقی کابینہ نے گذشتہ منگل کو قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے پہلے قدم کے طور پر عدالتی نظام کو قبائلی علاقوں تک توسیع دینے کی منظوری دی تھی۔

اصلاحات کا مسودہ حکومت کی جانب سے قائم کردہ چھ رکنی ٹیم نے تیار کیا تھا جس کی سربراہی سرتاج عزیز کر رہے تھے۔ اس کمیٹی نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی سفارش کی تھی۔

قومی اسمبلی میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی رہنما محمود خان اچکزئی نے اس بل کی ایوان میں مخالفت کی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ہی عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے منعقد کردہ کل جماعتی کانفرنس نے فاٹا کو مزید کسی تاخیر کے خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔

کانفرنس کے اعلامیے میں فاٹا کو 2018 کی صوبائی اسمبلی میں مکمل نمائندگی، اور دس سالہ ترقیاتی منصوبہ تیار کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔

اسی بارے میں