کرم ایجنسی میں ڈرون حملہ، تین افراد ہلاک

ڈرون تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کی کرم ایجنسی میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈرون حملہ پاک افغان سرحد کے قریبی علاقے میں کیا گیا۔

اس حملے کے حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے تینوں افراد کا تعلق حقانی گروپ سے تھا تاہم اس بات کی مکمل طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کے اعلان اور پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کے الزام کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال مئی میں صوبہ بلوچستان ضلع نوشکی میں بھی ایک ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور اختر ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے پر پاکستان نے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

پاکستان کے مطابق امریکی ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت اور جغرافیائی خود مختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے جو تمام رکن ممالک کی سرحدی خودمختاری کی ضمانت دیتا ہے۔

ماضی میں قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے معمول بن گئے تھے جنھیں پاکستان کے خدشات اور احتجاج کے باوجود امریکہ شدت پسندی کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا رہا ہے۔

اسی بارے میں