کلثوم نواز کے خلاف اپیل خارج، نواز شریف کے خلاف منظور

کلثوم نواز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کلثوم نواز علاج کی غرض سے ملک سے باہر ہیں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ان کی انتخابی مہم چلائی

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے نااہل قرار دیے جانے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کے انتخاب میں کاغذات نامزدگی کے خلاف دائر کی گئی اپیلیں خارج کردیں۔

دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک عام شہری کی جانب سے ’عدلیہ مخالف‘ تقاریر کرنے پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

خیال رہے کہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق کلثوم نواز گذشتہ روز ہی حلقہ این اے 120 میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخاب 61745 ووٹ لے کر کامیاب ہوئی ہیں۔

ان کے خلاف سپریم کورٹ میں یہ اپیلیں پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر اور پاکستان عوامی تحریک کے اشتیاق احمد ایڈوکیٹ کی طرف سے دائر کی گئیں تھیں۔

کچی عمر کی جمہوریت کا حسن

حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز ’کامیاب‘

این اے 120: ’لیگی وزرا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں‘

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کلثوم نواز کے کاغدات نامزدگی کے خلاف دائر ان درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار فیصل میر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلثوم نواز نے نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے ہیں بلکہ اپنا اقامہ بھی ظاہر نہیں کیا۔

Image caption پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے مقدمے میں فیصلے پر نظرِ ثانی کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستیں بھی مسترد کر دی ہیں

اُنھوں نے کہا کہ یہ معاملہ بھی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرح ہی ہے جس میں اقامہ ظاہر نہ کرنے پر اُنھیں نااہل کیا گیا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس کے معاملے میں تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس معاملے کو پاناما لیکس کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ ان کے پاس کونسے ایسے ثبوت ہیں جن کی بنیاد پر وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ بیگم کلثوم نواز نے اپنے اثاثے چھپائے ہیں جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اس ضمن میں قانونی نکات پر دلائل دیں گے۔

اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی نکات سے زیادہ حقائق پر بات کریں کیونکہ عدالت مستند ثبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کرتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 17 ستمبر کو اس حلقے میں اتنخاب ہوچکا ہے جس کا غیر سرکاری نتیجہ بھی آچکا ہے لہذا جمہوریت کے لیے بہتر ہے کہ عوام کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔

عدالت نے فیصل میر کی درخواست کو خارج کر دیا جبکہ پاکستان عوامی تحریک کے امیدوار نے اپنی درخواست واپس لے لی۔

Image caption کلثوم نواز پہلے جبکہ پی ٹی آئی کی یاسمین راشد دوسرے نمبر پر ہیں تاہم انھوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت میں جانےکا اعلان کیا ہے

17 ستمبر کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے انتخاب میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار اور نااہل قرار دیے گئے وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز نے غیر سرکاری نتائج کے مطابق کامیابی حاصل کی ہے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے کلثوم نواز کے کاغذات کی منظور کے بارے میں ریٹرننگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا تھا جس کے خلاف دونوں جماعتوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک عام شہری کی جانب سے ’عدلیہ مخالف‘ تقاریر کرنے پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔ اس کی سماعت یکم اکتوبر کو ہوگی۔

نواز اور ان کے بچوں کے خلاف دائر ریفرنس نامکمل قرار

پیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات روکنے کا حکم

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے تین ریفرنسز میں نواز شریف اور ان کے بچوں کو 19 ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے تاہم حکمراں جماعت کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں وکلا سے مشورے کے بعد اپنا ردعمل دیں گے۔

اسی بارے میں