’ریاست نے انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے فوجی سازوسامان پر تو زور دیا مگر متبادل بیانیے پر نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ 'گذشتہ دو تین دہائیوں سے ریاست نے جہاد کو پرائیویٹائز کیا اور جنگوں میں مذہب کو استعمال کیا اور انہی سب چیزوں کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔'

یہ بات پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت متبادل بیانیہ پیش کرنے میں ناکامی پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہی۔

خیبر پختونخوا میں تعلیم یافتہ امام یا اساتذہ تعینات کرنے کا فیصلہ

70 برس میں پاکستان پر بیشتر وقت آمریت کا سایہ

’سندھ میں ایک ہزار غیر قانونی مدارس‘

’اسلامی عسکری اتحاد کے قواعد و ضوابط طے نہیں ہوئے‘

’اہل سنت والجماعت کی سرگرمیوں پر حکومتی تشویش‘

انھوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ریاست نے فوجی سازوسامان پر توجہ تو دی لیکن عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے بیانیہ تشکیل نہیں دیا۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے گذشتہ پیر کو قراداد پیش کی تھی جس میں درخواست کی گی تھی کہ ایوان بالا میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے متبادل بیانیہ بنانے کے عمل پر بحث کی جائے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ریاست نے انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے فوجی سازوسامان پر تو روز دیا مگر متبادل بیانیے پر کسی نے توجہ نہیں دی۔

'گذشتہ دو تین دہائیوں میں ریاست نے جہاد کو پرائیویٹائز کیا۔ جنگوں میں مذہب کو استعمال کیا۔ اور انہی سب چیزوں کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'نیشنل ایکشن پلان میں پیش کردہ تصور کے مطابق بیانیے پر کام نہیں کیا گیا۔'

بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے قومی ایکشن پلان کا حوالے دیتے ہوئے کہا 'فوج نے اپنی ذمہ داری پوری کی اب حکومت بھی اپنی زمہ داریاں پوری کرے۔'

حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز کے سینیٹرجاوید عباسی نے کہا 'نیشنل ایکشن پلان سے دہشتگردی کا خاتمہ کرنے میں مدد ملی ہے۔ بڑے تعلیمی اداروں کے بچے انتہاپسند تنظیموں میں شامل ہو رہے ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے تمام فریقین ملکر متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دیں۔'

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی اور ناکامی سب کی کامیابی اور ناکامی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق وزیر داخلہ کے تعلقات سیاسی لوگوں سے کم اور دہشت گردوں سے زیادہ تھے: سینیٹر حمد اللہ

'متبادل بیانیہ نیکٹا کی ذمہ داری ہے۔ نیشنل ایکشن کے خلاف بات کرنے والے اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں کیونکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرانا صوبائی حکومتوں کی بھی ذمہ داری تھی۔'

سینیٹ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا 'بیانیہ ہمارے سکولوں اور درسگاہوں میں پروان چڑھتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر سب کا موقف واضح ہے۔ قائد اعظم کی ایک تقریر کو 1947 سے سینسر کیا جا رہا ہے۔ جنگجوؤں نے ہمارے مذہب کا استعمال کیا ہے۔'

اس سلسلے میں جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا نیشنل ایکشن پلان پر بہت کامیابیاں حاصل ہوئیں 'تاہم کریمنل جسٹس سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے'۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ پرویزمشرف ملک میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے مزید کہا '80 فیصد چینلز، اینکرز اور مالکان انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔'

انھوں نے سابق وزیر داخلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا 'سابق وزیر داخلہ کے تعلقات سیاسی لوگوں سے کم اور دہشت گردوں سے زیادہ تھے۔'

ہماری نامہ نگار ارم عباسی نے بتایا کہ اجلاس کے دوران سینیٹر حمد اللہ نے کہا 'نائن الیون کے بعد نام نہاد دہشت گری کی جنگ میں ملک کو کس نے دھکیلا؟ اس ریاست کو دلدل میں پھینکے والا ایک شخص تھا۔ آج ملک کو اس نہج پر پہنچانے والوں میں مولوی، سیاستدان، پارلیمینٹ عدلیہ سب شامل ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں