پارا تھرمامیٹر دا، سیاست چودھری طالب دی

پاکستان، سیاست دان، چوہدری طالب حسین تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption چوہدری طالب حسین 1971 میں پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے

منو بھائی ہمارے معاشرے کا ضمیر ہیں جو اپنے کالموں کے ذریعے معاشرے اور اس میں پائی جانے والی برائیوں پر لعنت ملامت کرتے رہتے ہیں۔ یہی کام انھوں نے اپنے ٹی وی ڈراموں میں بھی کیا اور جھوک سیال اور سونا چاندی جیسے بے مثال شاہکار تخلیق کیے۔

منو بھائی نے اپنی شاعری سے بھی یہی کام لیا اور اپنے ارد گرد جو کچھ بھی دیکھا اس کو اپنی پنجابی شاعری میں پرویا۔

اپنی نظم 'اجے قیامت نئیں آئی' میں انھوں نے اپنے ارد گرد ہونے والی 'انہونیوں' پر اپنے مخصوص انداز میں طنز اور نشتر برسائے ہیں لیکن اس تنقید کے درمیان ان کی سیاسی سوجھ بوجھ بھی نظر آتی ہے جو صحافت کے میدان میں ان کی طویل ریاضت اور سیاست کے گہرے مشاہدے کا پتا دیتی ہے۔

انھوں نے

جمعے بزار سیاست وکدی، ودھ گئی قیمت گڈواں دی

مئیں شریف دے پتراں نے وی ٹھیری لا لئی لڈواں دی

جیسی سطریں پاناما پیپرز کے سامنے آنے سے بہت پہلے لکھی تھی لیکن انھوں نے اپنی نظم کے اس مصرے میں پاکستان کی سیاست کو سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔

پارا تھرمامیٹر دا، سیاست چودھری طالب دی

اب یہاں چودھری طالب صرف ایک نام ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست کا ایک جیتا جاگتا استعارہ ہے جس کا ملکی سیاست میں ایک مستقل کردار رہا ہے۔

اس مصرعے کے محرک چودھری طالب حسین صاحب فیصل آباد کے ایک متحرک سیاسی لیڈر ہیں جو 1970 کی دہائی سے لے کر 2013 کے عام انتخابات تک کسی نا کسی طور پر سیاست کے میدان میں موجود رہے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور متعدد بار فیصل آباد سے صوبائی اور قومی اسمبلی کا الیکشن جیت چکے ہیں لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ہر بار ایک نئی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا۔

Image caption انتخاب کے نتائج آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اس انداز میں سڑکوں پر جشن منانے کے لیے نکل آئے۔

وہ پہلی مرتبہ 1971 میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1973 میں گورنر پنجاب کے مشیر مقرر کیے گئے۔ اگلے ہی سال یعنی 1974 میں وہ صوبائی وزیر بنے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ 1976 میں اسی حکومت کے ہوتے ہوئے وہ اپوزیشن لیڈر تھے۔

بعد میں 1990 اور 1997 میں بھی صوبائی حکومت کے رکن منتخب ہوئے۔

جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں پارلیمانی سیاست بحال کی تو چودھری طالب حسین قومی اسمبلی کے حلقے این اے 81 سے مسلم لیگ (ق) کے امیدوار بنے لیکن وہ اپنے روایتی حریف چودھری الیاس جٹ کے داماد اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے امیدوار ڈاکٹر نثار احمد بندیشہ کے مقابلے میں الیکشن ہار گئے۔

ڈاکٹر نثار احمد بندیشہ منتخب ہونے کے بعد مخدوم فیصل صالح حیات اور راؤ سکندر اقبال وغیرہ کے ساتھ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ میں چلے گئے اور پانچ سال تک حزب اقتدار میں رہے۔

2007 کے الیکشن سے پہلے چودھری طالب کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ق) کی ٹکٹ پر الیکشن نہیں جیت سکتے، اس لیے انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے جانشین چودھری سعید اقبال کو ڈاکٹر نثار احمد کے مقابلے میں امیدوار کھڑا کیا اور الیکشن جیت گئے۔

یہی ڈاکٹر نثار احمد بندیشہ 2013 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے امیدوار تھے اور اسی ٹکٹ پر وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

سو اب سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نااہلیت کے بعد جیسے جیسے 2018 کے الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں، چودھری طالب کی سیاست زیادہ نظر آنے لگی ہے۔

اس وقت تک سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پیپلز پارٹی چھوڑ کے پاکستان تحریک انصاف میں جا چکی ہیں جبکہ ان کے بھائی کے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے ہی چودھری نذر محمد گوندل اور امتیاز صفدر وڑائچ بھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ گجرات سے اس کے مرکزی رہنما نوابزادہ غضنفر گل نے مسلم لیگ نواز میں جانے کو ترجیح دی ہے۔

سیاسی پرندوں کی یہ پروازیں ایک طرف ہی نہیں ہیں بلکہ سیاسی ہوا کا رخ پھانپتے ہوئے کئی سیاسی رہنماؤں نے مخالف سمت میں بھی اڑانیں بھری ہیں۔

سن 2002 میں پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر صدر مشرف کی طرف جانے والے پیٹریاٹ رہنما فیصل صالح حیات پہلے ہی پیپلز پارٹی میں واپس آچکے ہیں جبکہ سندھ میں ناز بلوچ اور خیبر پختونخوا میں ضیااللہ آفریدی پی ٹی آئی کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سیاست کے کئی دیگر پرندے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے۔

امید یہی ہے کہ مسلم لیگی رہنما کلثوم نواز شریف کی کامیابی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر کی مایوس کن کارکردگی کے بعد سیاسی پرندوں کی پروازوں کا سلسلہ چند روز کے لیے رک جائے گا مگر یہ بات یقینی ہے کہ چودھری طالب کی سیاست 2018 کے انتخابات کی تاریخ قریب آنے تک جاری رہے گی۔

اسی بارے میں