مشال خان قتل کیس: 57 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی

مشعال خان احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

مشال خان کو مشتعل ہجوم نے تشدد اور فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا

عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کا الزام لگا کر تشدد اور فائرنگ سے قتل کیے جانے والے مشال خان کے مقدمے میں گرفتار 57 ملزمان پر منگل کو فرد جرم عائد کر دی گئی ہے جبکہ 18 گواہوں کو بدھ کو سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہری پور جیل میں آج سماعت کی جہاں 57 گرفتار ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ مشال خان کے والد اقبال خان کے وکیل شہاب خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت منگل سے شروع ہو گئی ہے اور بدھ سے گواہوں کو پیش کیا جائے گا ۔

اس مقدمے میں کل 60 گواہ ہیں جن میں سے 18 کو بدھ کو طلب کیا گیا ہے۔

ملزمان کی جانب سے ضمانت کی درخواستوں پر پیر کو سماعت ہوئی تھی جس پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا اور اب 26 تاریخ کو اس بارے میں فیصلہ سنایا جائے گا۔

مشال خان کے والد اقبال خان نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ مقدمے کی سماعت ہفتے میں تین دن ہوا کرے گی اور عدالت کی بظاہر یہ کوشش ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ جلد کیا جائے۔

مشال خان کو رواں سال 13 اپریل کو مشتعل ہجوم نے تشدد اور فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ مشال خان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے مبینہ طور مذہب کی توہین کی ہے لیکن مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اے آئی ٹی کے 13 ارکان کی تفتیش کے دوران ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔

مشال خان کے قتل کی متعدد ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد پولیس متحرک ہو گئی تھی۔

مردان پولیس نے اس سلسلے میں 57 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ شہاب خٹک ایڈووکیٹ کے مطابق مقدمے کی تفتیش جدید طریقے سے کی گئی ہے اور اس میں فورنزک شہادتیں بھی حاصل کی گئی ہیں۔

مشال خان کے والد نے پشاور ہائی کورٹ میں یہ درخواست دی تھی کہ اس مقدمے کی سماعت مردان کی کسی عدالت میں نہ کی جائے کیونکہ مقدمے کی سماعت کے لیے ان کا مردان جانا محفوظ نہیں ہو گا ۔

پشاور ہائی کورٹ نے مقدمہ ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور اب اس مقدمے کی سماعت ہری پور جیل کے اندر ہو رہی ہے۔