فوجیوں پر تشدد، پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر درج

پاکستان فوج تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی میں پولیس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سمیت درجن سے زائد افراد پر پاکستان فوج کے اہلکاروں پر تشدد اور سرکاری اسلحہ چھیننے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

یہ مقدمہ درخشاں تھانے میں حوالدار فہیم اللہ خان کی مدعیت میں دائر کیا گیا ہے۔ تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

مدعی نے کہا ہے کہ وہ 16 ستمبر کی شب سپاہی عارف، علی جان، ڈرائیور محمد الطاف کے ہمراہ کور کمانڈر کے خاندان کے ہمراہ سرکاری ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ گیارہ بج کر 55 منٹ پر خیابان مجاہد پر ایک سلور رنگ کی کار جس میں چار لڑکے سوار تھے نے وی آئی پی قافلے میں گاڑی گھسانا چاہی۔

'ہمیں ایسکارٹ والوں نے اطلاع دی کہ اس گاڑی کو چیک کریں۔ ہم نے خیابان مجاہد روڈ صبا ایونیو کراسنگ پر انھیں روکا اور شناختی کارڈ وغیرہ مانگے جو کہ وہ پیش نہ کرسکے۔ گاڑی میں سوار لڑکوں میں سے دو لڑکوں جن کے نام بعد میں مون اور اسد معلوم ہوئے انھوں نے طارق نامی شخص کو کال کی جس نے فورں گاڑی بھجوائی۔'

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ دو گاڑیوں میں 15 سے 18 مسلح افراد آئے۔ منظور نامی شخص نے انھیں جان کی دھمکیاں دیں اور مارپیٹ کرنا شروع کردی۔ ان کے ساتھ جہانگیر نامی ساتھی بھی آیا تھا اور اس نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر عارف ، علی جان اور مدعی کو مارا اور اس میں مون اور اسد نامی شخص بھی شریک ہوئے۔

مدعی کے مطابق 'مارپیٹ میں وہ زخمی ہوگئے اور ملزم ان کی دو سرکاری ایس ایم جیز بھی چھین کر لے گئے۔ علاج کے لیے جناح ہسپتال پہنچے اور وہاں سے تھانے پر مقدمہ کرانے آئے ہیں۔'

درخشاں پولیس نے جہانگیر، منظور، اسد اور مون سمیت درجن سے زائد نامعلوم افراد پر تشدد، ڈیوٹی میں مداخلت اور سرکاری اسلحہ چھیننے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ سب کچھ طارق مسعود آرائیں کی ایما پر کیا گیا ہے۔

طارق مسعود آرائیں نوابشاہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ ان سے مسلسل رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا موبائل فون بند رہا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کا اس حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

ایس پی کلفٹن اسد ملھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایف آئی آر درج ہونے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے بعد حقیقی صورتحال سامنے آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ایسکارٹ کے درمیان گاڑی آئی ہے اور دونوں فریقین میں تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہوا۔

متعلقہ عنوانات