نواز شریف کو احتساب عدالت کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیے: مریم نواز

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کے والد کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیے۔

مریم نواز نے ٹویٹ میں کہا کہ 'نواز شریف کو نیب کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیے اور بالکل نہیں ہونا چاہیے، انہیں احتساب کے نام پر سیاسی اور ذاتی کردار کشی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ سب ڈھونگ ہے۔'

مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ 'ہمیں تحفظات تھے لیکن امید تھی کہ عدلیہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔'

نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست رد

یاد رہے کہ منگل کو احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بچوں حسن اور حسین نواز کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی زبانی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں 26 ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

اسلام آباد میں نیب عدالت کے جج محمد بشیر چوہدری کے سامنے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف شر وع کیے جانے والے تین ریفرنسوں کی سماعت ہوئی تو نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالتی سمن کی تعمیل پر کی جانے والی کاروائی کے بارے میں عدالت کو آگاہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ جب نیب کے اہلکار ملزمان کے لاہور میں موجودہ پتے پر گئے تو وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور خود ہی نواز شریف اور ان کے بچوں کے سمن وصول کیے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت شریف خاندان کے تمام افراد کی غیر حاضری کے بعد عدالت نے شریف خاندان کی 26 ستمبر کو دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

شریف خاندان کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ، عزیزیہ اسٹیل ملز اور لندن جائیداد سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کے دائر کردہ تین ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی، جہاں نواز شریف کے سیاسی مشیر سینیٹر آٖصف کرمانی پیش ہوئے۔

نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شریف خاندان کے افراد نے سمن موصول ہی نہیں کیا۔

شریف خاندان کے سیکورٹی افسران کا کہنا تھا کہ حسن اور حسین نواز نے سمن وصول نہ کرنے کی ہدایات دے رکھی ہیں لہٰذا پراسیکیوٹرز کو جاتی عمرہ اور ماڈل ٹاؤن میں اندر جانے کی اجازت نہیں ملی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں