عدالت نے اسحاق ڈار کی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے پروٹوکول آفسر فضل داد نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کسی ضروری کام کے سلسلے میں اس وقت لندن میں موجود ہیں

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بدھ کی صبح وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کردیے ہیں اور انھیں 25 ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کے ساتھ ساتھ دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

اس موقعے پر عدالت نے نیب حکام کو کہا ہے کہ وہ اسحاق ڈار کی آئندہ پیشی پر موجودگی کو یقینی بنائیں۔ عدالت نے یہ وارنٹ ان کی عدم موجودگی پر جاری کیے ہیں۔

جج محمد بشیر چوہدری نے اسحاق ڈار کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ کے اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت کی تو نیب حکام نے عدالت کی طرف سے اسحاق ڈار کی پیشی کے حوالے سے جاری کیے گئے سمنز کی تعمیلی رپورٹ پیش کی گئی۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ سماعت کے دوران اسحاق ڈار کے پروٹوکول آفسر فضل داد نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کسی ضروری کام کے سلسلے میں اس وقت لندن میں موجود ہیں جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کسی سرکاری کام کے لیے انھیں بیرونِ ملک جانا تھا تو عدالت کو پیشگی اطلاع دی جانی چاہیے تھی۔

یاد رہے کہ منگل کو احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بچوں حسن اور حسین نواز کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی زبانی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں 26 ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

شریف خاندان کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ، عزیزیہ اسٹیل ملز اور لندن جائیداد سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کے دائر کردہ تین ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی، جہاں نواز شریف کے سیاسی مشیر سینیٹر آٖصف کرمانی پیش ہوئے۔

بدھ کی صبح میڈیا کو اس کیس کی کوریج کے سلسلے میں کمرہِ عدالتم یں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا اور کمرہِ عدالت کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے کہا کے ان کے پاس ایسے کوئی آرڈر موجود نہیں کہ میڈیا کو اس کارروائی کی کوریج کی اجازت دی جائے۔

عدالت کے قائم مقام رجسٹرار نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور کہا کہ رپورٹرز کو عدالتی کارروائی کی کوریج کرنے کی اجازت ہے تاہم وہ ’آنکھیں نیچی کر کے رپورٹنگ کریں کیونکہ جج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا بھی توہین|ِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں