کیا مسلم لیگ ن کے رہنما صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

خواجہ آصف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہی بات امریکہ اور دیگر ممالک کئی برسوں سے کہہ رہے ہیں لیکن پاکستانی حکمت کاروں کو سمجھ اس وقت آئی جب چین نے بھی پاکستان کو مقامی شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا مشورہ دیا۔

ستمبر کے شروع میں چین میں ہونے والے برِکس سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں لشکر طیبہ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا ذکر ہوا تو وزیر خارجہ خواجہ آصف بولے کہ یہ بات اصولاً درست ہے اس لیے اس مسئلے پر دنیا سے لڑائی کرنے سے پہلے 'ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہو گا۔'

برِکس اجلاس سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان اور پاکستان کے بارے میں پالیسی بیان دیتے وقت پاکستان سے شدت پسند گروہوں کے خلاف 'ڈو مور' کا مطالبہ کر چکے تھے۔

٭ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں نہیں ہیں: بریکس اعلامیہ مسترد

٭ دنیا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائے: جنرل باجوہ

٭ ’مسعود اظہر کے خلاف قرارداد انڈیا کا سیاسی حربہ‘

اس سب کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے اپنا گھر ٹھیک کرنے سے مراد ہے کیا؟ آنے والے چند دنوں میں اس جملے پر اتنی لے دے ہو چکی ہے کہ اصل بات کہیں دب کر رہ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حکومتی ارکان کے بیانیے کے برعکس دنیا سے 'ڈو مور' کا مطالبہ کیا

اس بیچ یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ اس موضوع پر حکمران جماعت کے اندر جو بحث چل رہی ہے کیا وہ محض افراد کے درمیان ذاتی نوک جھوک ہے یا مسلم لیگ ن میں ہونے والی ایک سنجیدہ پالیسی بحث ہے جو غلط وقت پر غلط طریقے سے میڈیا کی زینت بن گئی۔

خواجہ آصف کے کابینہ کے سابق ساتھی چوہدری نثار علی خان نے اپنا گھر ٹھیک کرنے کا مطلب یہ لیا کہ جیسے امریکی حکام افغانستان میں شدت پسند حملوں کا ذمہ دار پاکستان سے کام کرنے والی شدت پسند تنظیموں کو ٹھہراتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے 'ڈو مور' کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، 'اپنا گھر ٹھیک کرنا' دراصل اسی امریکی طرز فکر کی تائید ہے۔

چوہدری نثار علی خان اور خواجہ آصف کے درمیان کشیدگی کافی پرانی ہے لیکن خود ان کے ساتھیوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ سابق وزیر داخلہ اتنے حساس قومی معاملے کو استعمال کرتے ہوئے خواجہ آصف کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے۔

اسی لیے خود وزیراعظم خواجہ آصف کی تائید میں سامنے آئے اور کہا کہ شدت پسندی میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی اپنے ملک میں امن کے لیے ضروری ہے۔

خواجہ آصف کے کابینہ کے ساتھی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی انہی کا ساتھ دیا اور چوہدری نثار کو بتایا کہ اپنا گھر ٹھیک کرنے سے مراد اس نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا ہے جو خود چوہدری نثار نے بنایا تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہو سکا۔

چوہدری نثار نے صورتحال کو اپنے اس بیان سے مزید گھمبیر بنایا کہ یہ وزرا اس طرح کی باتیں اس وقت تو نہیں کرتے تھے جب نیشنل ایکشن پلان پر عمل کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس میں اس پر بحث ہوتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار علی خان اور خواجہ آصف کے درمیان کشیدگی برسوں پرانی ہے

چوہدری نثار نے شاید اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے یہ بھی بتایا کہ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر اپنی تقریر میں بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حکومتی ارکان کے بیانیے کے برعکس دنیا سے 'ڈو مور' کا مطالبہ کیا۔

تو کیا یہ محض مسلم لیگ کے موجودہ اور ناراض رہنماؤں کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں دیے گئے بیانات ہیں یا حکمران جماعت کے اندر ایک بہت حساس موضوع پر پالیسی بحث کا حصہ؟

حکمران جماعت کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بحث میں دونوں عناصر موجود ہیں۔ یہ بات بظاہر درست ہے کہ چوہدری نثار اپنے ان سابق ساتھیوں پر تنقید کا موقع سمجھتے ہوئے اس موضوع کو استعمال تو کر رہے ہیں لیکن اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ مسلم لیگ کے اندر جاری بحث میں بھی بن بلائے مہمان کی طرح اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

بحث یہ ہے کہ نواز شریف 1997 کے انتخابات کی طرح 2018 کے عام انتخابات میں جن موضوعات کو اپنے انتخابی مہم کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ان میں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات بنانا بھی شامل ہے جبکہ حکمران جماعت میں شامل بعض لوگ اس موضوع کو انتخابی ایشو بنانے کے مخالف ہیں۔

تو یہ محض اتفاق یا زبان پھسلنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حکمران جماعت کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ ملک میں ان شدت پسند گروہوں کے لیے زمین تنگ کرنا ہو گی جو پاکستانی سرزمین دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ نا صرف ایسا کرنا ہو گا بلکہ ایسا کرنے کا اعلان بھی کرنا ہو گا۔ یہ اعلان صرف عالمی برادری کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی ووٹروں کے سامنے بھی کرنا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار کے ساتھیوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ سابق وزیر داخلہ اتنے حساس قومی معاملے کو استعمال کرتے ہوئے خواجہ آصف کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے۔

دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ کی اس زیر تعمیر پالیسی کے خلاف پہلی آواز بھی مسلم لیگ کے اندر سے آ رہی ہے۔ اور ایسے رہنما کی طرف سے آ رہی ہے جو حال ہی میں حکومت سے اپنا رستہ الگ کر چکے ہیں گو کہ پارٹی سے وہ ابھی تک الگ نہیں ہوئے۔

یہاں ایک نئی بحث بھی چل نکلی ہے کہ چوہدری نثار کے اس حکومت مخالف محاذ میں انہیں مسلم لیگ کے اندر سے کتنے رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔

بدھ کو چوہدری نثار کی قومی اسمبلی میں اسی موضوع پر تقریر کے دوران بجنے والے ڈیسک بتا رہے تھے کہ سینیئر لیگی رہنما اس راہ کے اکیلے مسافر نہیں ہیں۔

اسی بارے میں