اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے ہیں۔

قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں عدم حاضری کی بنا پر جاری کیے تھے۔

٭’یہ الیکشن کمیشن ہے آڑھت کی دکان نہیں‘

٭ ’عمران خان کو گرفتار کر کے پیش کریں‘

٭توہینِ عدالت کیس میں عمران خان کے وارنٹ جاری

الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں ایس ایس پی اسلام آباد کو بھی ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ملزم عمران خان مقررہ تاریخ پر ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے اور 25 ستمبر کو عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو انھیں گرفتار کیا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے اس اقدام کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ضرور ہے لیکن اس کے پاس توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے پاس ہے۔

بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کہ الیکشن کمیشن کے اس حکم کو معطل کیا جائے جس پر عدالت نے اتفاق کرتے ہوئے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حکم کو معطل کر دیا اور اس کے ساتھ عمران خان کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے شو کاز نوٹس کا جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں