’ہسپتال جو کئی مجبوروں کے لیے ایک پناہ گاہ تھا‘

کرم ایجنسی تصویر کے کاپی رائٹ Shaista Aziz

میں نے طبیانِ بے سرحد یعنی ایم ایس ایف کے ساتھ پاکستان میں دو سال کام کیا اور اس دوران میں اپنا زیادہ تر وقت اسلام آباد، پشاور، ہنگو کرم ایجنسی اور فاٹا کے علاقے میں گزارتی تھی۔

میں نے کرم ایجنسی میں بچوں کے لیے قائم کردہ ایم ایس ایف کے ہسپتال میں کام کیا جو صدہ کے علاقے میں واقع ہے۔ رواں مہینے حکومت نے یہ ہسپتال یہ کہہ کر بند کروا دیا کہ ایم ایس ایف کے پاس فاٹا کے علاقے میں کام کرنے کا اجازت نامہ نہیں ہے۔

کرم ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کا خوف

دس سال میں کرم ایجنسی میں کیا بدلا؟

مقامی صحافیوں کی بات سنیں تو وہ بتاتے ہیں کہ ایم ایس ایف پر الزام ہے کہ اس نے ڈرون حملے کے زخمیوں کا علاج کیا اور یہ کہ ہسپتال امریکی حکام کے لیے جاسوسی کر رہا تھا جس کے نتیجے میں اس علاقے کے قریب ہی ایک ڈرون حملہ کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے ایسی کسی بات کا تذکرہ ریکارڈ پر نہیں تو یہ سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ میرے ایم ایس ایف کے ساتھی ریکارڈ پر اس حوالے سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں جس کا سادہ مطلب میں یہ سمجھتی ہوں کہ انھیں یا تو خوف ہے یا پتا نہیں ہے۔

میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ جو میں جانتی ہوں وہ یہ ہے کہ یہ ہسپتال بچوں اور ان کے خاندان والوں کے دکھ اور تکالیف سے بچنے کے لیے ایک پناہ گاہ تھی۔ لاچار اور مجبور لوگ جن کے پاس اور کوئی جگہ نہیں جہاں وہ جا سکیں وہ یہاں اپنے بچوں کو علاج کے لیے لاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shaista Aziz

پشاور سے کرم ایجنسی کا سفر لمبا اور مشکل ہے اور سکیورٹی کے لحاظ سے صورتحال کسی لمحے بدل سکتی ہے۔ جس کے لیے آپ کو تیار رہنا چاہیے۔ ایسے ہی سفر کے دوران ہم کئی گھنٹے سڑک پر پھنسے رہے اور ہر 600 سو گز کے بعد سکیورٹی چیک پوسٹ سے گزرنا پڑا۔ یہ میرے لیے ایک بہت ہی مشکل سفر تھا تصور کریں ایک حاملہ خاتون یا بیمار اور زخمی بچے کے لیے یہ سفر کیسا ہوتا ہوگا؟ مشکلات اپنی جگہ مگر شدت پسندی کا خطرہ اسے مزید کٹھن بنا دیتا ہے۔

اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ ہسپتال اس علاقے کے لوگوں کے لیے نعمت سے کم نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ ہسپتال ایسے علاقے میں ہے جہاں شدت پسندی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ 2007 کے بعد سے فاٹا کے مختلف علاقوں میں جاری اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں نے مختلف علاقوں میں نقل مکانی کی۔

فوجی آپریشنز کے نتیجے میں عام عوام کی مشکلات میں تو اضافہ ہوا ہی اس کے ساتھ ساتھ ان کی صحت کے سہولیات تک رسائی بھی شدید متاثر ہوئی۔ اپنے بیمار بچے کو ہسپتال تک لانے کے لیے ایک شخص کو پولیس، فوج اور ایف سی کی کئی چوکیوں اور چیک پوسٹس سے گزرنا پڑتا ہے۔ میں نے کئی بار ایمبولینسوں کو ان لمبی قطاروں میں پھنسے دیکھا ہے جن میں بعض اوقات انتہائی تشویش ناک حالت میں مریض موجود ہوتے اور اتنی لمبی قطاروں میں آپ شدت پسندوں کے لیے ایک آسان نشانہ بن سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shaista Aziz

فاٹا میں کام کرنے والی مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق فاٹا میں گیارہ ستمبر کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد سے 175 صحت کے مراکز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں فاٹا میں موجود پہلے سے کمزور صحت کی سہولیات کا نظام متاثر ہوا اور اس کی وجہ سے زیادہ متاثر ہونے والے مقامی افراد ہیں جنھیں انہی کے علاقے میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

کرم ایجنسی میں واقع ہسپتال میں میری اکثر بیمار بچوں اور خواتین سے بات ہوتی تھی جو اس سارے غیر منصفانہ رویے کا شکوہ کرتی تھیں۔ یہاں کام کرنے والے کارکن چترال اور ہنزہ جیسے دور دراز علاقوں سے یہاں روزی کمانے آئے ہیں۔ ان میں سے کئی خواتین اپنے گھرانوں کی واحد کفیل ہیں۔ ان خواتین کے لیے نہ صرف اس جگہ پر کام کرنا ایک بڑی مشکل ہے بلکہ انھیں مردوں کی جانب سے بھی غیر مساوی رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shaista Aziz

مجھے اس علاقے بلکہ پورے خطے کے باسیوں کے احساسِ محرومی کا دکھ ہے جن سے ایک اہم سہولت چھین لی گئی ہے۔ ان کے لیے زندگی اس ہسپتال کے بغیر مزید مشکل ہو جائے کیونکہ یہ ہسپتال صرف ایک عمارت یا سہولت نہیں تھی بلکہ زندگی کے لیے ایک امید بھی تھی۔

جاسوسی کے الزامات یا دوسری باتیں ثابت ہوں گی یا نہیں مگر اپنے عوام کو صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم کرنا بذاتِ خود بڑی نا انصافی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں