'یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی وزیرستان ہے'

کرکٹ میچ
Image caption پاکستانی فوج، پشاور زلمی اور پی سی بی کی طرف سے 'امن کپ' کے نام سے مشترکہ طورپر منعقدہ اس ایک روزہ کرکٹ میلے کا مقصد شمالی وزیرستان کے مثبت تاثر کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا تھا

تقریباً ایک دہائی تک دنیا بھر کے جہادیوں اور شدت پسندوں کا گڑھ رہنے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں چند سال پہلے تک شاید یہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ جس جگہ شدت پسند تربیت حاصل کرتے تھے وہاں کبھی مقامی لوگ ڈھول کی تھاپ اور قومی دھنوں پر رقص کریں گے اور وہاں غیر ملکی کھلاڑی آکر کرکٹ کھیلیں گے۔

ویلکم بیک ہوم کرکٹ

بالکل ایسا ہی منظر گذشتہ روز شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں واقع یونس خان کرکٹ سٹیڈیم میں دیکھنے میں آیا جہاں برطانیہ الیون اور پاکستان الیون کے درمیان نمائشی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ کھیلا گیا۔

پاکستانی فوج، پشاور زلمی اور پی سی بی کی طرف سے 'امن کپ' کے نام سے مشترکہ طورپر منعقدہ اس ایک روزہ کرکٹ میلے کا مقصد شمالی وزیرستان کے مثبت تاثر کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا تھا۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وہاں ایک ایسے کرکٹ میلے کا انعقاد کیا گیا جس میں نہ صرف پاکستان کے سٹار کھلاڑیوں بلکہ برطانیہ کے نامور صحافیوں، اراکین پارلیمینٹ اور کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی۔

یونس خان کرکٹ سٹیڈیم کے سبزہ زار میں ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ کئی برسوں تک گولیوں کی گھن گرج اور خوف کی کیفیت میں زندگی گزارنے والے قبائلی نوجوان آج بظاہر ہر قسم کے خوف سے آزاد ہو کر میچ سے محضوض ہو رہے تھے۔

Image caption جُوں جُوں میچ میں کوئی اچھی شاٹ لگتی تو سٹیڈیم تالیوں، نعروں اور قومی نغموں سے گونج اٹھتا

میچ شروع ہونے سے پہلے ہی سٹیڈیم کے تقریباً تمام انکلوژرز تماشائیوں سے کھچا کھچ بھر چکے تھے۔

جُوں جُوں میچ میں کوئی اچھی شاٹ لگتی تو سٹیڈیم تالیوں، نعروں اور قومی نغموں سے گونج اٹھتا۔ تقریباً ہر انکلوژر کے سامنے ڈھول بجانے والوں کی ایک ٹیم موجود رہی جہاں قبائلی نوجوان علاقائی رقص اتنڑ پیش کرتے رہے۔

سٹیڈیم میں بالکل ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ یہ کسی قبائلی علاقے کا منظر ہو بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسا یہ میچ پنڈی یا لاہور میں کھیلا جارہا ہو۔ منتظمین کے مطابق تقریباً دس سے پندرہ ہزار افراد نے میچ دیکھا اور تماشائیوں میں بیشتر سکول اور کالجوں کے طلبا تھے جو ہاتھوں میں پاکستان اور برطانیہ کے خوبصورت جھنڈے لہراتے رہے۔

گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، کورکمانڈر پشاور اور پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غور نے بھی میچ دیکھا۔

Image caption اس دوستانہ میچ کا مقصد دنیا کو وزیرستان کی مثبت تصویر دکھانا ہے اور انہیں پیغام دینا ہے کہ وزیرستان سے دہشت گردوں کا صفایا ہوچکا ہے اور اب یہاں امن کا دور دورہ ہے: میجر جنرل آصف غفور

انھوں نے کہا شاید کچھ سال پہلے تک یہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ وزیرستان جیسے علاقے میں غیر ملکی کھلاڑی آکر کرکٹ کھیلیں گے لیکن عوام، حکومت اور فوج کی قربانیوں سے یہ خواب اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔

میچ کے انعقاد کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ سٹیڈیم کے ارد گرد سکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد موجود رہی جبکہ وقفے وقفے سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سے سٹیڈیم کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔

اس میچ کی کوریج کے لیے ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد سٹیڈیم میں موجود رہی اور لمحہ بہ لمحہ میچ کی رپورٹنگ کرتے رہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے یہ میچ براہ راست دکھایا گیا۔

برطانیہ سے آئے ہوئے سینئیر صحافی اور بی بی سی کے سابق نمائندے اوین بینیٹ جونز سے جب پوچھا گیا کہ انھیں وزیرستان آکر کیسے لگ رہا ہے تو انھوں نے پرجوش انداز میں کہا کہ 'مجھے یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی وزیرستان ہے، جی ہاں وہی وزیرستان جہاں پہلے شدت پسندوں کے بڑے بڑے مراکز ہوا کرتے تھے اور جہاں لوگوں کے گلے کاٹے جاتے تھے۔' انھوں نے کہا کہ امن کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ یہاں مزید کرکٹ کے مقابلے ہونے چاہیے اور یہ سلسلہ برقرار رکھنا چاہیے۔

نامور سنئیر صحافی اور اینکرپرسن حامد میر نے کہا کہ اس سے پہلے وہ جب بھی وزیرستان آئے تو گولیوں کی گھن گھرج کا منظر ہوا کرتا تھا اور واپسی پر وہی صورتحال ہوتی تھی لیکن آج یہاں کا نقشہ ہی تبدیل ہے اور ہرطرف امن ہی امن ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'صرف کرکٹ میچ کا انعقاد ہی سب کچھ نہیں بلکہ ہمیں یہاں کے نوجوانوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، ان کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے تب جاکر ہمیں اصل کامیابی نصیب ہوگی۔'

میرانشاہ کے ایک قبائلی سردار محمد جاوید خان نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ وزیرستان میں مثالی امن قائم ہو چکا ہے لیکن علاقے میں جگہ جگہ قائم چیک پوسٹوں پر اب بھی لوگوں کو جاتے ہوئے مشکلات کا سامنا رہتا ہے جس پر سکیورٹی فورسز کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں