’آپ کی حاضری لگ گئی، اب آپ جاسکتے ہیں‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

منگل کا دن، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی احتساب عدالت میں پہلی بار پیش ہونے جارہے تھے۔ لیکن اس سے پہلے سکیورٹی اتنی ہائی الرٹ تھی کہ عام آدمی کو ایک کلومیٹر کے علاقے میں سڑکوں پر جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔

سکیورٹی کا یہ عالم تھا کہ نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف ریفرنس کی پیروی کرنے والے نیب کے پراسیکیوٹر کو بھی کمرہ عدالت میں تو دور کی بات عدالت کے احاطے میں بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بعدازاں جب اُنھوں نے اپنی دستاویزات پیش کیں تو پھر اُنھیں کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت دی گئی۔

میاں نواز شریف کے سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کرنے کے لیے حکمراں جماعت کو بظاہر کسی پر اعتماد نہیں تھا اس لیے ان انتظامات کی نگرانی اسلام آباد پولیس کے سربراہ نہیں بلکہ داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری کر رہے تھے۔

عدالت کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے تھے۔

دو ہیلی کاپٹرز اس وقت تک فضا میں رہے جب تک نواز شریف عدالتی سماعت تک احاطہ عدالت میں موجود رہے۔

نواز شریف سکیورٹی کے سخت حصار میں کمرہ عدالت پہنچے تو ان کے پولیٹیکل سیکریٹری آصف کرمانی جج کی اجازت لیے بغیر روسٹم پر آگئے اور کہا کہ اُنھوں نے عدالت سے کیا گیا وعدہ پورا کردیا ہے اور نواز شریف عدالت میں پیش ہوگئے ہیں۔ آصف کرمانی کا انداز کچھ اس طرح کا تھا کہ جیسے وہ یہ چاہ رہے ہوں کہ اس پیش رفت پر عدالت ان کا شکریہ ادا کرے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

عدالت کے جج محمد بشیر چوہدری نے ملزم محمد نواز شریف کی طرف دیکھا اور کہا کہ آپ کی حاضری لگ گئی ہے 'اب آپ جاسکتے ہیں'۔

احتساب عدالت کے جج کا کمرہ چھوٹا تھا جبکہ سابق وزیر اعظم کے ساتھ آنے والے وکلا اور پارٹی رہنماوں کے علاوہ سکیورٹی کے عملے کے ارکان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وزیر اعظم کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ آئے ہوئے فوٹو گرافر نے تصاویر لینا شروع کیں تو اس کو دیکھتے ہوئے میڈیا کے لوگوں نے بھی موبائل فون کے ذریعے ویڈیو بنانا شروع کردیں۔ عدالت نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اُنھیں سختی سے روکا جس کے بعد وہاں پر موجود سکیورٹی کے عملے کی میڈیا کے ارکان کے ساتھ تلخ کلامی ہو گئی جو بعد میں ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔

سماعت کے دوران میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اپنے موکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر دلائل دے رہے تھے کہ وہاں پر موجود صحافی نے آواز لگی کہ 'ذرا اونچی آواز میں دلائل دیں' جس پر جج غصے میں آگئے اور انھوں نے صحافی کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ 'وکیل صاحب میرے لیے دلائل دے رہے ہیں آپ کے لیے نہیں'۔ عدالت نے کہا کہ اگر دوبارہ آواز آئی تو وہ اُنھیں کمرہ عدالت سے باہر نکال دیں گے۔

سماعت کے بعد کمرہ عدالت سے نکلتے ہوئے حکمراں جاعت سے تعلق رکھنے والے رہنما یہ گلہ کرتے ہوئے نظر آئے کہ عدالت کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے کم از کم اتنے دن تو دینے چاہیے تھے جتنے عام مقدمات میں دیے جاتے ہیں۔ ان رہنماوں جن میں انوشہ رحمان اور بیرسٹر ظفراللہ شامل ہیں نے یہ بھی گلہ کیا کہ احتساب عدالت میں بہت سے ایسے مقدمات ہیں جن میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے مہینوں کی تاریخیں دی گئی ہیں۔

صحافیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ہونے والے ناخوش گوار واقعہ سے جہاں بدمزگی پیدا ہوئی وہاں اس کا ایک فائدہ تو ضرور ہوا کہ صحافیوں کو کمرہ عدالت تک پہنچنے میں کسی سکیورٹی اہلکار نے چیک نہیں کیا اور نہ ہی اُنھیں اپنے موبائل فون عدالت کے احاطے سے باہر رکھنے کے بارے میں کہا گیا۔

اسی بارے میں