ڈر ہے کہ پاکستان کسی حادثے کا شکار نہ ہو جائے: نواز شریف

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اپنی نااہلی کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہر شخص حیران ہے اور کوئی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہا

سپریم کورٹ سے نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اپنی نااہلی کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں اپنی جماعت کے اہم رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ جب انصاف کا عمل انتقام کا عمل بن جائے تو سزا خود عدالتوں کو ملتی ہے۔

نواز شریف پر 2 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی

’آپ کی حاضری لگ گئی، اب آپ جاسکتے ہیں‘

پنجاب ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ایک عدالت نے پہلے پٹیشن کو فضول اور ناکارہ قرار دیا پھر اسی عدالت نے مقدمے کی سماعت شروع کردی۔ اسی عدالت نے ایک جے آئی ٹی بنا دی اور پھر جے آئی ٹی کی نگرانی بھی سنبھال لی۔ پھر عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ براہ راست ریفرنس دائر کرو۔ پھر اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول بھی سنبھال لیا، یہی عدالت احتساب کورٹ کی نگران بھی بن گئی اور اگر ضرورت پڑی تو یہی عدالت میری آخری اپیل بھی سنے گی۔'

نواز شریف نے یہ بھی کہا ’ہماری تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری پڑی ہے جن کا ذکر کرتے ندامت ہوتی ہے۔'

اپنی نااہلی کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہر شخص حیران ہے اور کوئی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پیر کو ہی اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف پر دو اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ اہلیت اور نااہلیت کے فیصلے 20 کروڑ عوام کو کرنے دیے جائیں کیونکہ ’ایسے فیصلوں کے خلاف عدالت میں اپیل ہو یا نہ ہو عوام کی عدالت میں اپیلیں لگتی رہتی ہیں اور ایک فیصلہ تو میرے حق میں آیا۔‘

نواز شریف نے کہا کہ وہ جھوٹ پر مبنی بےبنیاد مقدمے لڑ رہے ہیں لیکن انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک مقدمہ لڑتے رہیں گے جو ’قائداعظم کے پاکستان، اس کے 20 کروڑ عوام، آئین اور جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی، ووٹ کے تقدس کا مقدمہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'وقت آگیا ہے کہ 70 سال پرانے کینسر کا علاج تجویز کریں ورنہ مجھے ڈر ہے کہ پاکستان خدا ناخواستہ کسی حادثے کا شکار نہ ہو جائے۔'

انھوں نے کہا کہ آمریت کے دور کے پٹے ہوئے مقدمات کو ان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ آمرانہ دور میں بھی قانون اور انصاف کے عمل سے گزرے ہیں اور آج جمہوری دور میں بھی اسی عمل سے گزر رہے ہیں۔

اُن کے مطابق دورآمریت میں بھی انھیں دو دو اپیلوں کا حق حاصل تھا جس سے آج کے جمہوری دور میں انھیں محروم کر دیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی اپیل پر فیصلہ تو این اے 120 کی عوام نے سنا دیا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو ہی اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف پر دو اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔

نواز شریف پر فرد جرم ان پر نیب کی طرف سے دائر کردہ تین ریفرنسز میں عائد کی جائے گی جس میں بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے قیام، العزیزیہ سٹیل مل اور لندن فلیٹس شامل ہیں۔

اسی بارے میں