’حقانی نیٹ ورک، حافظ سعید جیسے عناصر بوجھ ہیں، جان چھڑانے کے لیے وقت چاہیے‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ آصف نے کہا کہ اسی کی دہائی میں امریکہ کی پراکسی بننا پاکستان کی غلطی تھی

پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان کے لیے ایک'لائبیلیٹی' یا بوجھ ہیں مگر ان سے جان چھڑانے کے لیے پاکستان کو وقت چاہیے۔

نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بحران کی صورت میں پاکستان اور خطے کے لیے ایک لائبیلیٹی یا بوجھ ثابت ہو سکتے ہیں۔

تقریب کے میزبان، امریکی صحافی سٹیو کول کے ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ اس خیال سے متفق ہیں کہ پاکستان کو شدت پسندی اور دہشت گردی کی باقیات کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔

’پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی امریکی صلاحیت محدود‘

’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘

پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا بنانا قبول نہیں: خواجہ آصف

جماعت الدعوۃ کے بانی حافظ سعید کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی 'تنظیم کالعدم ہے اور وہ نظربند ہیں مگر میں آپ سے متفق ہوں کہ اس سلسلے میں ہمیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'یہ کہنا بہت آسان ہے کہ پاکستان حقانیوں اور حافظ سعید اور لشکر طیبہ کی مدد کر رہا ہے۔ ’یہ بوجھ ہیں۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ ایک لائیبیلٹی ہیں لیکن ہمیں وقت دیں ان سے جان چھڑانے کے لیے کیونکہ ہمارے پاس ان سے جان چھڑانے کے وسائل نہیں ہیں۔ آپ تو یہ بوجھ بڑھا رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 80 کی دہائی میں امریکہ کا آلۂ کاربننا ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر الزامات لگانے سے پہلے اس بات پر غور کیا جائے کہ پاکستان کے مسائل اور مشکلات امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے بعد پیدا ہوئے جب پاکستان کو امریکہ نے بحیثیت آلۂ کار استعمال کیا۔

انھوں نے کہا کہ 'سوویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ بننا غلط فیصلہ تھا۔ ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'بلاشبہ ہم نے غلطیاں کی ہیں لیکن ہم اکیلے نہیں ہیں ان غلطیوں کو کرنے میں اور صرف ہمیں مورد الزام ٹھہرانا ناانصافی ہے۔ امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد خطے کو ایسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔ اس کے بعد سے ہم جہنم میں چلے گئے اور آج تک اسی جہنم میں جل رہے ہیں۔'

اپنے خطاب میں وزیر خارجہ نے خطے میں پاکستان کے پڑوسی ممالک کے حوالے سے گفتگو کی اور کہا کہ افغانستان کا مسئلہ عسکری طور پر حل نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کیے جائیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس امر کا بھی خیال رکھا جائے کہ پاکستان صرف ایک حد تک افغان مسئلے کے حل کی ذمہ داری لے سکتا ہے، باقی کام افغانستان کو خود کرنا ہوگا۔

'سرحدوں کی دیکھ بھال کرنا سب سے ضروری ہے اور افغان حکومت کو اس پر توجہ دینی ہو گی۔'

خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ گذشتہ 15 سالوں سے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں پوست کے کاشت میں مسلسل اضافہ، طالبان کا کھوئے ہوئے حصوں پر واپس قبضہ، شدت پسند تنظیم داعش کی وہاں موجودگی اور ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن جیسے مسائل کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔ انھوں نے افغان فوجی اپنے ہتھیاروں کی نیلامی کر رہے ہیں اور طالبان کو بیچ رہے ہیں، پاکستان ایسے مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹہرایا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ’مری میں مذاکرات ہو رہے تھے تو ملا عمر کی موت کی خبر جاری کر دی گئی، پھر طالبان رہنما جب ایران سے واپس آ رہا تھا تو اسے پاکستان سرزمین پر ہلاک کر دیا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ کوئی تو ہے جو چاہتا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کا حامی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں انڈیا کے بارے میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے متعدد بار انڈیا سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور بشمول مسئلہ کشمیر تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن انڈیا نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

'پاکستان انڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ تمام تنازعات کو حل کیا جائے اور خطہ میں امن و استحکام قائم کیا جائے۔'

خواجہ آصف نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کی تعداد کم ہونے سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان نے ملک میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر کاروائی کی ہے۔

چین اور پاکستان کے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات تھے اور پاکستان نے اپنے بہتر تعلقات کو امریکہ اور چین کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا۔

انھوں نے کہا کہ جب ان کی حکومت نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تو پاکستان میں توانائی کا شدید بحران تھا لیکن جب پاکستان نے عالمی اداروں سے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش تو اسے ناکامی ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ باوجود اس کے امریکہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی مدد کر رہا تھا لیکن امریکی مدد اتنی بڑی نہیں تھی جتنا بڑا توانائی کا مسئلہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس موقع پر چین پاکستان کی مدد کو آیا اور چین پاکستان میں توانائی کے شعبے میں 36 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اسی طرح چین مواصلات کے شعبے میں سات بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کر رہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر دیگر اور ممالک اس اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کو تیار ہیں تو اس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

'سڑکیں بنیں گی، مواصلاتی ذرائع میں بہتری آئے گی اور یہ سب کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد دیں گی اور جب تجارت شروع ہوگی تو اختلافات میں کمی آئے گی اور دشمنیاں کم ہوں گی۔'

ا

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں