پاک ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹر اہلخانہ سمیت ’لاہور سے اغوا‘

مسعود کچماز
Image caption مسعود کچماز کے ساتھ ان کے خاندان کے تمام افراد بھی غائب ہیں

لاہور میں منگل کی رات ترک شہری مسعود کچماز اور ان کے اہلخانہ کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔

لاہور میں واقع پاک ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹر مسعود کچماز ایک ماہ قبل ہی واپڈا ٹاؤن کے علاقے میں منتقل ہوئے تھے جبکہ پاکستان میں پچھلے 10 سال سے رہائش پذیر تھے۔

٭ ترک اساتذہ اور طلبا کی پاکستان بدری روکنے کی ہدایت

٭’یہ اردوغان کا ملک نہیں‘

٭ پاکستان چھوڑنے کا حکم عدالت میں چیلنج‘

بی بی سی اردو کی نامہ نگار حنا سعید نے جب متعلقہ تھانے سے رابطہ کیا تو ستوکتلہ تھانے کے محرر محمد حنیف نے کیس کی تفصیلات فراہم کیں۔

'ہم کیس کی تفتیش کر رہے ہیں، ان چار افراد کو کوئی ایجنسی اٹھا لے گئی ہے، کون سی ایجنسی، یہ پتا نہیں ابھی۔ ہم اردگرد کے گھروں سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھیوں نے اطلاع دی ہے لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی کیونکہ کوئی مدعی نہیں بنا۔ البتہ ہم اپنی طور پر تفتیش جاری رکھیں گے۔'

دوسری جانب عینی شاہد اور مسعود کچماز کے ساتھی ٹیچر فاتِح اوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے درج نہیں کی البتہ فاتح کے خود سے لکھے ہوئے بیان کی کاپی رکھ کر تسلی کروائی کہ تفتیش کر رہے ہیں۔

فاتِح اوج نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اسی کرائے کے گھر کی دوسری منزل پر رہتے ہیں جس کی پہلی منزل پر مسعود رہائش پذیر تھے اور رات کے دو بجے شور کی آواز سے اٹھے۔

'مسعود کے گھر کا دروازہ کھلا تھا، داخل ہوا تو دیکھا سادہ لباس میں ملبوس دس آدمی اور پانچ عورتیں مسعود کچماز، اس کی بیوی اور دو بیٹیوں کو زبردستی لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مسعود کی اہلیہ زمین پر گری ہوئی تھیں اور دو عورتیں ان کو زبردستی گھسیٹ رہی تھیں جبکہ ان کی بیٹیاں رو رہی تھیں۔ میں نے مداخلت کی تو انہوں نے کہا ہم پولیس والے ہیں۔ پھر مسعود کی فیملی اور مجھے گاڑی میں ڈال کر ہماری آنکھوں پر پٹیاں اور چہرے پر کالا کپڑا ڈال دیا گیا۔'

Image caption فاتِح اوج کا کہنا ہے کہ مسعود سمیت ان کے 450 ترک ساتھیوں کو نومبر 2016 میں پاک ترک سکول سے نکال دیا گیا

’مسعود نے مزاحمت کی تو ان لوگوں نے تشدد شروع کر دیا۔ وہ ہمیں ایک گیسٹ ہاؤس میں لے گئے جہاں پر نہ جگہ کا اور نہ وقت کا تعین ہو سکتا تھا کیونکہ دیوار پر گھڑی تک نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد مجھے یہ کہہ کر واپس چھوڑ گئے کہ تم ہماری لسٹ میں شامل نہیں، تم نے مداخلت کی اس لیے اٹھائے گئے۔ ننگے پاؤں چلتا چلتا میں تو گھر پہنچ گیا لیکن وہ سب اب بھی لاپتہ ہیں‘۔

فاتِح اوج کا کہنا ہے کہ مسعود سمیت ان کے 450 ترک ساتھیوں کو نومبر 2016 میں پاک ترک سکول سے نکال دیا گیا کیونکہ ترکی کی حکومت نے پاکستان کو ایسی ہدایات دی تھیں۔ فتح اور مسعود نے اقوام متحدہ کے ادارہہ برائے ہناہ گزین 'یو این ایچ سی آر' کے پاکستان آفس سے ایک سال کی میعاد کا پناہ گزین سرٹیفیکٹ حاصل کیا تھا جس کی تجدید نومبر میں ہونی تھی۔

'میرا یہ سوال ہے کہ کیا پاکستان غیر ملکیوں کے لیے محفوظ ہے؟ ہمارے پاس لیگل سٹیٹس ہے پاکستان میں رہنے کا، تو ہمارا ساتھ یہ کیوں ہوا؟ جو لوگ مسعود کو اغوا کر کے لے گئے ان میں سے ایک کے منہ سے غلطی سے نکلا کہ ہم ان لوگوں کو واپس ترکی بھیج دیں گے۔ بعد میں وہ بات گول کر گیا‘۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے لاہور سے ترکی جانے والی پروازوں میں پتا کیا تو مسعود یا اس کے گھر والوں کا نام نہیں۔ لیکن جو لوگ وارنٹ یا اجازت کے بغیر ہمیں اٹھا کر لے گئے، کیا انہیں کسی کو ترکی بھیجنے کے لیے نام لکھوانے کی ضرورت ہو گی؟ ہمیں ہماری اپنی ترک حکومت نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ ہم اپوزیشن کے ساتھ ہیں‘۔

مسعود کچماز نے 2008 میں گولن تحریک پر مبنی نیو یارک ٹائمز کے ایک مضمون کے لیے انٹرویو دیا تھا۔ پاک ترک سکول میں کام کرنے والے ترک باشندوں پر یہ الزام ہے کہ وہ گولن تحریک کے حامی ہیں۔

امریکہ میں رہائش پذیر حکومت مخالف مبلغ فتح اللہ گولن پر ترکی میں جولائی 2016 میں ناکام بغاوت کا الزام ہے جس کے بعد ترکی سمیت دنیا بھر میں گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا۔

Image caption وہ گھر جہاں میسوت رہائش پذیر تھے

پاکستان میں 1995 میں پاک ترک فاؤنڈیشن کے تحت بننے والے پاک ترک سکول اور کالجز کے 28 کیمپس ہیں اور تقریباً 11 ہزار بچے یہاں زیر تعلیم ہیں۔

کسی بھی عالمی دباؤ یا تنازعے سے محفوظ رکھنے کی لیے نومبر 2016 میں ترک سٹاف کو اس تعلیمی ادارے سے الگ کر دیا گیا تھا۔

لیکن ترکی لوٹ کر گرفتاری اور سزا کے خطرے کے باعث زیادہ تر سٹاف یو این کے مہاجر سٹیٹس پر پاکستان میں قیام پذیر ہے۔

فاتِح اوج کا الزام ہے کہ رجب طیب اردوغان ان سکولوں کا چارج پاک ترک فاؤنڈیشن سے لے کر اپنے داماد کو دینا چاہتے تھے۔

'ایسا نہیں ہوا، اسی لیے ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔ اگر یہ مسعود کے خاندان کے ساتھ ہو سکتا ہے تو کل ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم قانونی جنگ لڑیں گے اور کورٹ میں کیس کریں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں