نیا اپوزیشن لیڈر لانے پر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف میں اتفاق

پاکستان، عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماضی میں پاکستان تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم ایک دوسرے مخالف جماعت رہی ہیں

پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تبدیلی پر اتفاق کرلیا ہے، دونوں جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتی آئی ہیں۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ایک وفد نے گذشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز کا دورہ کیا اور ایم کیو ایم کی قیادت سے قائد حزب اختلاف کی تبدیلی پر بات کی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت نے قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے لیے اور تحریک انصاف کی مکمل حمایت کی جائیگی۔

کراچی میں ایم کیو ایم حقیقی کی حقیقت

ایم کیو ایم پاکستان یا لندن کی شکست؟

اردو بولنے والوں کے ووٹ بینک پر سیاست؟

انھوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ق سے رابطے کے لیے شاہ محمود قریشی کو ٹاسک دیا گیا ہے، جو ان جماعتوں کی حمایت حاصل کریں گے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے 24 اراکین موجود ہیں، امین الحق کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ نگران وزیر اعظم اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی نامزدگی کے وقت بھی انہیں اعتماد میں لیا جائیگا۔

کراچی میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران تحریک انصاف کو متحدہ قومی موومنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں عمران خان کی کراچی آمد پر پابندی کے علاوہ ان کے خلاف جلسے جلوس اور وال چاکنگ شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aamir quraishi

کراچی میں 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف ایم کیو ایم کے بعد دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی اور اس نے ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ اسے ان علاقوں سے ووٹ ملے جہاں ایم کیو ایم گرفت رکھتی تھی۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی پاکستان میں موجود قیادت پر ناراضگی کی ابتدا بھی تحریک انصاف کی انتخابات میں کامیابی سے ہوئی تھی، جس کے بعد ان کی اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے خلاف تحریک انصاف نے میٹروپولیٹن پولیس کو بھی شکایت کی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کا ایم کیو ایم کے دفتر چل کر آنا آنے والے دنوں میں نئی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سندھ کے شہری علاقوں میں تبدیلی متوقع ہے۔

سندھ اسمبلی میں بھی ایم کیو ایم اور تحریک انصاف اپوزیشن میں ہیں اور قائد حزب اختلاف ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی حمایت کرتی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیپلز پارٹی کے تعلق رکھنے والے خورشید شاہ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے شہری علاقوں کو نظر انداز کیا ہے، انتظام بیورو کریسی کے حوالے ہے جس وجہ سے شہر کھنڈر بن چکا ہے۔

قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی 47 جبکہ تحریک اصناف کی 32 نشستیں ہیں، ایم کیو ایم کی 24، جماعت اسلامی کی 4 ، مسلم لیگ ق اور عوامی نیشنل پارٹی کے پاس دو، دو نشتیں ہیں۔

اسی بارے میں