خواجہ آصف ’غدار‘ تو ’پھر عمران کے لیے کیا لقب ہو گا؟‘

خواجہ آصف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ آصف اپنے بیانات اور تبصروں کی وجہ سے اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں۔

سوشسلتان میں اس ہفتے پاناما کیس اور اس کے بعد نیب کے کیسز کے حوالے سے بات چیت جاری رہی۔ جبکہ کرکٹ کی واپسی کا مطلب ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں کرکٹ پاکستانی سوشل میڈیا کے نمایاں ٹرینڈز میں شامل رہے گا۔

مگر اس ہفتے ہم بات کریں گے خواجہ آصف کی جو ان پاکستانیوں کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر 'غدار' کا لقب دیا جا رہا ہے۔

'خواجہ آصف پر تنقید

خواجہ آصف نے گذشتہ دنوں نیو یارک ایشیا سوسائٹی میں ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کھل کر پاکستان میں جہادی تنظیموں کے بارے میں اظہارِ خیال کیا۔

مگر اسی اظہارِ خیال پر انھیں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور سوشل میڈیا پر موجود تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک جانب عمران خان نے انھیں ’ملک دشمن' کہا تو رہی سہی کسر عمران خان کے حامیوں نے پوری کر دی جو خواجہ آصف کو غدار کہہ رہے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی رکن قومی اسمبلی منزہ حسن نے لکھا کہ'اتنے غیر ذمہ دارانہ اور غدارانہ جملے وزیرِ خارجہ کی جانب سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ نواز شریف کے پٹھو ان کے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے مشن پر ہیں۔'

احمد سلیم جو عمران خان کو اپنا رہنما مانتے ہیں لکھتے ہیں 'خواجہ آصف جیسوں کی موجودگی میں کسے دشمنوں کی ضرورت ہے۔ ان سب کے لیے ایک ظالمانہ مارشل لا آنا چاہیے۔'

کچھ اسی قسم کی بات تحریکِ انصاف کی چیئرمین عمران خان نے کی کہ 'خواجہ آصف کا شدت پسندوں گروہوں کی سرپرستی کے حوالے سے بیان اُن کی جانب سے بحثیت وزیرِ خارجہ سامنے آنا پاکستان کی سکیورٹی کو داؤ پر لگانے کے مترداف ہے۔ ایسے وزیرِ خارجہ کے ہوتے ہوئے کسے دشمنوں کی ضرورت ہے؟'

دوسری طرف سے عاصمہ نے لکھا 'عمران خان کی ٹویٹ جس میں انھوں نے خواجہ آصف کے حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوۃ پر موقف پیش کیا واضح کرتا ہے کہ عمران کا جھکاؤ کس کی جانب ہے۔'

نورین حیدر نے لکھا کہ 'خواجہ آصف تنہا عمران خان اور جھوٹ پر سے ایک منٹ میں پردہ اٹھا سکتے ہیں مگر عمران خان اس پردےکے اٹھنے کے بعد بھی شرمندہ نہیں ہوں گے۔'

اسی حوالے سے عمران خان کا انڈیا کے نیوز چینل سی این این آئی بی این کے کرن تھاپر کو دیا گیا انٹرویو بھی شیئر کیا جا رہا ہے جس میں عمران خان نے کہا کہ 'اگر تحریکِ انصاف حکومت میں آتی ہے تو ہم پالیسی کے طور پر اس بات پر اصرار کریں گے کہ پاکستان کے اندر کوئی جنگجو گروہ فعال نہ ہو۔ دنیا بدل چکی ہے اور جو گروہ افغان جہاد کے دوران بنائے گئے تھے وہ اب انھیں اثاثے بنا کر رکھنا ایک زائدالمعیاد پالیسی ہے۔'

اس پر کرن نے ان سے نام لے کر پوچھا کہ 'کیا اس میں لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت، جیش محمد اور وہ گروہ جو انڈیا کےخلاف بنے ہیں شامل ہیں؟

عمران خان نے اس کے جواب میں کہا کہ 'جب میں کہتا ہوں کہ کوئی جنگجو گروہ نہیں تو اس کا مطلب کوئی بھی نہیں۔'

اس پر سوشل میڈیا کے ایک صارف نے سوال کیا کہ 'خواجہ آصف نے جو بات نیو یارک میں کہی اس پر اگر وہ پی ٹی آئی کی نظر میں غدار ہیں تو عمران خان نے ویسی ہی بات ہمارے دشمن ملک انڈیا میں کہی تو اب عمران خان کے لیے کیا لقب ہو گا؟'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاک ترک سکولوں کے سابق ڈائریکٹر مسعود کچماز کی گمشدگی پر سکول کی طالبات مظاہرے میں شریک ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لاہور میں یومِ عاشور کے لیے زنجیریں تیار کر کے فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں

اسی بارے میں