جنرل باجوہ کا دورۂ کابل: ’پاکستان کے پاس مذاکرات کا بڑا موقع ہے‘

جنرل قمر جاوید باجوہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 'اگر ہم ناکام ہوئے تو خطہ مکمل طور پر عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا'

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ آئندہ دو روز میں کابل کا دورہ کریں گے جہاں وہ افغانستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کے علاوہ افغانستان میں امریکی افواج کی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔

یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان سے کسی اعلیٰ شخصیت کا پہلا دورہ ہے۔

دنیا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائے: جنرل باجوہ

اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے علاوہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے معاملے پر بھی بات چیت کا بھی امکان ہے جبکہ پاکستان، افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ دہرانے کی توقع ہے۔

صورتِ حال سے باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ پاکستان کی عسکری قیادت کی افغان سیاسی اور عسکری قیادت سے روابط کے پیچھے امریکہ کی حمایت شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد سے اب تک امریکہ اور پاکستان کی عسکری قیادت کے درمیان بھی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔

افغان صدر اشرف غنی نے حال ہی میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کےساتھ مذاکرات کرنے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’پاکستان کے پاس یہ مذاکرات کا بڑا موقع ہے جس میں ناکامی کے باعث پاکستان کو بڑی قیمت ادا کرنا ہو گی۔‘

جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پاکستان کے لیے افغانستان کی جنگ کو اپنی زمین پر لانا قابل قبول نہ ہوگا۔

افغان صدر نے امریکہ میں ہی کونسل آن فارن ریلیشینز میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ افغانستان کے پہلے سویلین صدر ہیں جنھوں نے اقتدار میں آنے کے چند ہفتوں بعد ہی پاکستان میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں فوجی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی پہلی تقریر میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں امریکہ اہداف واضح ہیں

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی افغان پالیسی جاری کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کچھ ایسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جو افغانستان میں امریکی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

تجزیہ کار افغان صدر اشرف غنی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد اس دورے کو اس لیے اہم قرار دے رہے ہیں کہ دونوں ملک بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں اس دورے کو اپنا موقف واضح کرنے کا ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے تو دوسری جانب افغانستان میں مقامی میڈیا کے مطابق افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کی عسکری قیادت سے 'دیانتداری کے ساتھ افغانستان سے تعاون کی بات کرے گی۔'

کابل میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر رابطے قائم رکھنے کے لیے مسلسل کام کیا جارہا ہے۔

’پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے اور اس کے لیے مکمل تعاون کر رہا ہے۔‘

انھوں نے تصدیق کی کہ دونوں ملکوں کے عسکری اور سیاسی حکام کے درمیان رابطے بحال کرنے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔

وہ آرمی چیف کے دورہ کابل کے سلسلے میں معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے ان دنوں پاکستان میں موجود تھے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن کے ساتھ طے شدہ ملاقات دوسری بار بھی ملتوی کر دی گئی جس کے بعد وزیر خارجہ وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ اب یہ ملاقات اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ہونے کا امکان ہے۔

یہ پاکستان کے فوجی سربراہ کا پہلا دورہ کابل ہوگا۔ اس سے پہلے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس وقت افغانستان کے دورے کی دعوت دی تھی جب انھوں نے نئے سال کی آمد پر مبارکباد دینے کے لیے افغان سی ای او کو ٹیلی فون کیا تھا۔

اس سے پہلے مارچ 2016 میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کابل کا اس وقت دورہ کیا تھا جب افغانستان میں موجود ریزولوٹ سپورٹ مشن کی کمان کی تبدیلی کی تقریب ہوئی تھی۔ جس کے بعد رواں برس مزار شریف پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی برّی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف اور پھر فوج کی انٹییلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے کابل میں اعلیٰ امریکی اور افغان قیادت سے ملاقات کی تھی۔

اس کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کی قیادت میں پارلیمانی وفد نے کابل دورے کے دوران افغان قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ جبکہ رواں برس جولائی میں افغانستان میں امریکی فوج کےسربراہ جنرل نکلسن نے پاکستان آئے تھے۔ تاہم افغانستان کی سیاسی یا عسکری قیادت نے ماضی قریب میں پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب آج پاکستان میں امریکہ کی افغان پالیسی کے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی کا تیسرا اجلاس ہوا ہے۔ اجلاس میں وزیر دفاع خرم دستگیر، وزیر خارجہ خواجہ آصف اور مسلح افواج کے سربراہان سمیت مشیران برائے قومی سلامتی و خارجہ امور اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

جنوبی ایشیا اور افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد سے قومی سلامتی کمیٹی کے تین اجلاس ہوچکے ہیں۔ اس اجلاس میں بھی نئی امریکی پالیسی پر غور کیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم دورہ امریکہ پر بھی کمیٹی کو اعتماد میں لیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کے دوست ممالک سے براہ راست رابطوں سے متعلق تفصیلات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں